Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی

Urdu book, p. 78

By Maulana Wahiduddin Khan

نظر فرمائی گئی ہیں۔ جو کسی طرح بھی دعوتِ حق کے قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ اور ان کے فرمانے کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ ایک طرف تو نبی کو یہ اطمینان دلایا جائے کہ ان لوگوں کی حد تک ــ صرف ان لوگوں کی حد تک ــ تمہاری ذمہ داری ختم ہو چکی ہے، اس لیے ان کے ایمان نہ لانے کے سلسلے میں تمہیں پریشان نہ ہونا چاہیے۔ دوسری طرف ان منکروں کو متنبہ کر دیا جائے کہ تمہیں سمجھانے بجھانے کا مرحلہ اب ختم ہو چکا ہے۔ اب اگر تم نہیں مانتے تو اس کے انجام کے تم خود ذمہ دار ہو۔‘‘ اگر چہ یہ توجیہ صرف ان آیتوں سے متعلق ہے جو موصوف کے الفاظ میں ”حصر کا اسلوب“ رکھنے والی ہیں، ان کے سوا بے شمار دیگر آیات کے حق میں یہ توجیہ صادق نہیں آتی، تاہم اصل مسئلہ نسبت سے یہ بحث بالکل غیر ضروری ہے۔ اس لیے میں اس کو چھوڑتا ہوں۔ میں یہ پوچھتا ہوں کہ موصوف نے جن ”معاندینِ حق“ کا حوالہ دیا ہے، ان کا معاند ہونا کیسے معلوم ہوا تھا، کیا یہ کوئی انکشاف تھا جو محض علمِ غیب کی بنیاد پر کر دیا گیا تھا، یا تبلیغ و شہادت کی کسی کوشش کے بعد اس کا علم حاصل ہوا تھا آخر حق کو قبول کرانے کی وہ کون سی کوشش تھی جس نے بتایا کہ وہ کسی طرح بھی حق کو قبول کرنے والے نہیں ہیں‘‘۔ اور یہ کہ ان لوگوں کی حد تک نبی کی بات پہنچانے کی ذمہ داری ختم ہو چکی ہے۔ اب وہ قیامت میں یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم کو آپ ایک ایسے جرم کی سزا دے رہے ہیں جو ہم پر واضح نہیں کیا گیا تھا، دوسرے لفظوں میں یہ کہ جو زے داری شاہد پر تھی وہ ذمہ داری اب مشہود کی طرف جا چکی تھی، آخر شہادت ادا کرنے یا بات پہنچانے کی وہ کون سی کوشش تھی جس کے نتیجے میں یہ ساری چیزیں متحقق ہوئیں۔ ظاہر ہے کہ یہ کسی ”نظامِ حیات“ کی عملی شہادت نہیں تھی، کیوں کہ ایسا کوئی نظام اس وقت تک وجود ہی میں نہیں آیا تھا بلکہ یہ وہی چیز تھی جس کو موصوف نے دوسرے مقام پر ”دعوتی مساعی“ کے لفظ سے تعبیر کیا ہے، اب اگر موصوف کے ذوقِ خاص کو یہ ”محض ابتدائی شہادت“ نظر آتی ہے تو مجھے اس سے کوئی بحث نہیں، کیوں کہ خود موصوف کے اعتراف کے مطابق یہی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page