خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی
Urdu book, p. 79
By Maulana Wahiduddin Khan
ابتدائی شہادت اللہ تعالیٰ کی نظر میں ”انتہائی شہادت“ بن گئی۔ اور اس کی بنیاد پر اعلان کر دیا گیا کہ ان کے اوپر شہادت حق کی حجت تمام ہو چکی ہے۔ اب آخرت کی عدالت اس حیثیت میں ہو چکی ہے کہ ان کے بارے میں آخری فیصلہ کر سکے۔ ”عملی شہادت“ کے نظریہ پر میں نے جو تنقید کی ہے اس سے شاید موصوف کو غلط نہی ہو گئی ہے۔ لکھتے ہیں: ”کیا اگر ہم نے اور آپ نے اعلان و اسرار کے ذریعہ (اپنے مخاطبین کے) سامنے اسلام کی بات پہنچادی اور اس کے برحق ہونے پر دلائل فراہم کر دیے تو ان پر اس طرح کی حجت تمام ہو جائے گی۔ شاید یہ ایک ایسی بات ہوگی جس کا قائل اور مدعی بننے کے لیے ہمیں دنیا کی نہ کوئی خوش فہمی اجازت دے سکے گی نہ کوئی ہٹ دھرمی“۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ موصوف ”اعلان و اسرار“ کے ذریعہ بات پہنچانے کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ لاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ سارے شہر میں اعلان کر دیا جائے۔ یا کسی گزرتے ہوئے شخص کے کان میں ایک بار پھونک دیا جائے۔ اگر اس طرح سے ہماری آواز لوگوں کے کانوں میں پڑ گئی تو بس اتمام حجت ہو گیا۔ حالانکہ ”اعلان و اسرار“ کا لفظ قرآن میں حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت و تبلیغ کے سلسلے میں آیا ہے جو دو چار دن نہیں بلکہ سینکڑوں برس تک اپنی قوم کو پکارتے رہے۔ داعی کی پکار محض ایک بار سنا دینے کا نام نہیں ہوتی، بلکہ وہ ایک انتہائی حکیمانہ اور صابرانہ عمل ہے جو پوری دلسوزی کے ساتھ طویل ترین مدت تک جاری رہتا ہے۔ قرآن و حدیث میں داعیانہ خطاب کی شرائط نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کر دی گئی ہیں۔ ان سب کو شامل کرنے کے بعد دعوتی کام کا جو نقشہ بنتا ہے، اسی کا نام شہادت ہے۔ 3۔ اقیمو الدین کی آیت سے اس تعبیر کے حق میں جو استدلال کیا جاتا ہے، اس کے متعلق میں نے لکھا ہے کہ یہ صحیح نہیں، کیوں کہ اس آیت میں صرف بنیادی تعلیمات دین کی اقامت کا حکم ہے، جب کہ آپ اپنے نصب العین کو ایک مکمل اور ہمہ گیر نظام حیات کا قیام کے الفاظ میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader