خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی
Urdu book, p. 80
By Maulana Wahiduddin Khan
ظاہر کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں لکھتے ہیں: "موصوف کو نہ جانے اتنی موٹی سی بات کیوں یاد نہ رہی کہ آیت میں جو حکم دیا گیا ہے، اس میں نہ کوئی تخصیص ہے نہ کوئی توقیت، اس کے برخلاف وہ واضح طور پر ایک عام ہمہ گیر اور اصولی حکم ہے، اور وہ یہ کہ الدین یعنی اللہ کے دین کو قائم کرو۔ اللہ کا دین کوئی ایسا لفظ نہیں جس میں کوئی ابہام یا اجمال ہو، وہ ایک جانی بوجھی حقیقت ہے، سب جانتے ہیں کہ الدین اور اللہ کا دین کسے کہتے ہیں، اس لیے جو چیز بھی اللہ کے دین کا جزء ہوگی، جس شے پر بھی دین کا اطلاق ہوگا، وہ اس حکم اقامت میں لازماً داخل ہوگی۔" میں کہوں گا کہ اقیمو الدین کے دو لفظی ٹکڑے میں تو بے شک کوئی تخصیص نہیں ہے پورے فقرے کو سامنے دیجیے تو صریح طور پر یہاں تخصیص پائی جا رہی ہے، وہ یہ کہ پوری آیت کے مطابق حکم یہ ہے کہ اس دین کو قائم کرو جو تمام انبیاء پر اترا تھا اور چونکہ انبیاء پر اترنے والا دین قرآن کی تصریح کے مطابق دو اجزاء پر مشتمل تھا ایک وہ جو سب میں مشترک ہے اور دوسرا وہ جن میں ان کے درمیان اختلاف تھا، اس لیے مقتضائے کلام کے مطابق یہاں حکم اقامت میں صرف پہلا جزء مراد ہوگا اور دوسرا جزء (اس آیت کی حد تک) اس سے خارج سمجھا جائے گا، جیسا کہ مفسرین نے اسی بنا پر یہاں بالاتفاق کہا ہے۔ (مفسرین کے تفصیلی حوالہ کے لیے ملاحظہ ہو کتاب کا باب "اسلامی مشن کی تعبیر") حقیقت یہ ہے کہ صرف اقیمو الدین کے دو الفاظ لے کر یہ دعویٰ کرنا کہ اس میں کوئی تخصیص نہیں پائی جاتی، گویا یہ کہنا ہے کہ تخصیص کو انھیں چند الفاظ میں موجود ہونا چاہیے جن کا حوالہ دیا گیا ہو، اگر اس فلسفہ کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر شاید کوئی ایسی بات نہ ہوگی جو قرآن سے ثابت نہ ہو سکے۔ مثلاً: لا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ (4:43) ۔ یعنی، نزدیک نہ جاؤ نماز کے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader