خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی
Urdu book, p. 81
By Maulana Wahiduddin Khan
لَیْسَتِ التَّوْبَةُ (4:18)۔ یعنی، تو بہ نہیں ہے۔ مَامِنۡ اِلٰہ (3:62)۔ یعنی، کوئی معبود نہیں۔ جیسے سینکڑوں فقرے ملیں گے جو کسی تخصیص اور استثناء کے بغیر ایک حقیقت کا اظہار کر رہے ہیں۔ افسوس کہ ایک غلط بات کی وکالت نے موصوف کو ایک ایسے مقام پر پہنچا دیا جہاں وہ خود بھی شعوری طور پر جانا کبھی پسند نہیں کر سکتے۔ اسی قسم کی ایک اور دلچسپ دلیل موصوف نے یہ دی ہے کہ امام راغب اصفہانی نے اِقَامَةُ الشَّيْءِ کے معنیٰ تَوفِیَةُ حَقِّه لکھے ہیں (مفردات القرآن، صفحہ 692)۔ اور ظاہر ہے کہ دین کا توفیہ یعنی اس کے پورے حق کی ادینگی کل دین کی اقامت کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ اس لیے أَقِيْمُوا الدِّيْنَ کا مطلب یہی ہو سکتا ہے کہ پورے دین کو قائم و جاری کرو۔ مگر امام راغب کی تشریح کے یہ معنی خود تشریح کے اندر موجود نہیں ہیں بلکہ وہ موصوف کے ذہن میں جا کر بن گئے ہیں۔ اس تشریح کا مطلب تو صرف یہ ہے کہ جس چیز کے لیے بھی اقامت کا لفظ بولا جائے، اس کا توفیہ کرنا، امام راغب کی یہ تشریح مفردات میں ”ق وم“ باب میں ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ لفظ اقامت کا مفہوم بتا رہے ہیں، نہ کہ الدین کے حدود متعین کر رہے ہیں، مگر موصوف چوں کہ اپنے ذہن میں الدّین کا مفہوم ”کل شریعت“ لیے ہوئے ہیں، اس لیے انہوں نے الدّین کے اپنے اس ذاتی مفہوم کو لفظ اقامت کے متعلق امام راغب کی تشریح کے ساتھ ملا کر یہ سمجھ لیا کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ”کل دین کا توفیہ کرو“۔ حالانکہ اگر وہ الدّین سے اصل دین مراد لیں تو وہ نہایت آسانی سے سمجھ سکتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے ”اصل دین“ یا دین کی بنیادی تعلیمات کا توفیہ کرو، گویا کہنے والے نے تو صرف ”چار“ کہا تھا، مگر سننے والے نے اپنے مخصوص ذہن کی وجہ سے اس کو ”چار روٹیاں“ سمجھ لیا۔ أَقِيْمُوا الدِّيْنَ کی آیت کے سلسلے میں میں نے اپنی تحریر میں مفسرین کے اقوال بھی جمع کیے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سب کے سب یہاں الدّین سے اصل دین مراد لیتے ہیں،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader