Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی

Urdu book, p. 82

By Maulana Wahiduddin Khan

اور تفصیلی شریعت کو اس سے خارج قرار دیتے ہیں، اس حقیقت کے اظہار کے لیے ان میں سے بعض نے یہ فقرہ استعمال کیا ہے: ” وَلَمْ يَرِدِ الشَّرَائِعَ الَّتِي هِيَ مَصَالِحُ الأُمَمِ عَلَى حَسَبِ أَحْوَالِهَا، فَإِنَّهَا مُخْتَلِفَةٌ مُتَفَاوِتَةُ.“ (الكشاف للزمخشرى، جلد 4، صفحہ 215؛ تفسیر القرطبی، جلد 16 ، صفحہ 10)۔ اس فقرے کو لے کر میرے بارے میں فرماتے ہیں کہ فی الواقع انھیں غلط فہمی ہوئی ہے۔ ورنہ مفسرین کا مدعا و منشاء وہ ہرگز نہیں ہے جو انہوں نے لیا ہے۔ اس کے بعد میری ” غلط فہمی“ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”بات دراصل یہ ہے کہ مفسرین کرام نے جو یہ فرمایا ہے کہ ”اس سے شرائع مراد نہیں ہیں“ تو یہ انہوں نے ایک ظاہری اشکال یا اعتراض کے دفع کرنے کے لیے فرمایا ہے۔ اشکال یا اعتراض یہ پیدا ہورہا تھا کہ انبیاء کرام کے دین اپنی تفصیلی شکل میں بعینہ ایک سے نہ تھے بلکہ ان کی شریعتوں میں بہت کچھ اختلاف تھا لیکن اس آیت میں دین کی اقامت کا حکم دیتے وقت یہ کہا گیا کہ یہ وہ دین ہے جو سارے انبیاء پر نازل ہوتا رہا ہے۔ تو اس شکل میں آخر اس حکم کی تعمیل کس طرح کی جاسکتی ہے۔ آخر اقامت دین کی وہ کیا صورت ہوسکتی ہے جس سے سارے انبیاء کرام پر نازل ہونے والی ہدایات ربانی کی اقامت اور پیروی کا حق ادا ہوجائے۔ مفسرین کرام کے ذہن میں یہی اشکال تھا جس کا جواب دینے کے لیے انہوں نے اس بات کی وضاحت ضروری سمجھی کہ یہاں شرائع زیر بحث ہیں ہی نہیں۔“ میں نہیں سمجھ سکا کہ ان الفاظ میں میری بات کی تردید کا کیا پہلو ہے، ان الفاظ کا مطلب بظاہر سمجھ میں آتا ہے وہ یہ کہ أَقِيمُواْ الدِّينَ کا حکم جس آیت میں آیا ہے، اس کے الفاظ اس قسم کے ہیں کہ اگر وہاں دین سے کل دین کی اقامت مراد لی جائے تو فوراً اعتراض واقع ہوجائے گا،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page