Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی

Urdu book, p. 83

By Maulana Wahiduddin Khan

اس لیے مفسرین نے کہا ہے کہ یہاں شریعتیں زیر بحث نہیں ہیں۔ ان کے نزدیک اس "حکم کی تعمیل کی صورت " یہ ہے کہ دین کا اتباع کیا جائے۔ آخر اس کے سوا اور کیا بات ہے، جو میں کہہ رہا ہوں۔ کیا میرا دعویٰ یہ ہے کہ بغیر کسی سبب کے مفسرین نے خواہ مخواہ یہ رائے قائم کرلی ہے کہ یہاں صرف اصل دین کی اقامت کا حکم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موصوف کے الفاظ علمائے تفسیر کی رائے کی صرف توجیہہ کر رہا ہے وہ میری "غلط فہمی" کی تردید نہیں کرتے۔ اس سلسلے میں موصوف نے دوسرا نکتہ یہ پیش کیا ہے کہ مفسرین نے "لم يرد الشرائع" کا لفظ استعمال کیا ہے۔ حالانکہ اگر وہ بات ہوتی جو میں سمجھ رہا ہوں تو اس کے بجائے لم يرد الشريعة يالم يرد الشريعة المحمدية جیسے الفاظ ہونے چاہئیں تھے۔ یہ نکتہ موصوف نے غالباً جلدی میں لکھ دیا۔ حالانکہ اگر وہ غور کرتے تو انھیں معلوم ہوتا کہ جمع کا صیغہ اس لیے استعمال ہوا ہے کہ (بشمول آخری نبی) تمام انبیاء کی شریعتوں کے بارے میں کہنا تھا کہ وہ یہاں مراد نہیں۔ شرائع کے لفظ میں شریعت محمدی آپ سے آپ شامل ہے۔ وہ اس سے خارج نہیں۔ البتہ اگر کسی لغت میں یہ لکھا ہوا ہو کہ شرائع کے معنی "شریعت محمدی کے سوا شرائع"، تو یقیناً موصوف کا یہ استدلال صحیح ہوگا۔ اب میں اس تحریر کے اس حصہ پر آتا ہوں جو اس کا سب سے زیادہ حیرت انگیز حصہ ہے أَقِيمُواْ الدِّينَ کی بحث میں میں نے علمائے تفسیر کے جو حوالے دیے ہیں اس سلسلے میں میری تردید کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ تمام مفسرین کا یہی خیال نہیں ہے، اس موقع پر موصوف نے دو مفسرین کے حوالے نقل کیے ہیں۔ اور دعویٰ کیا ہے کہ ان کے نزدیک "اقامت دین کے اس حکم میں شریعت کے تفصیلی احکام بھی داخل ہیں اور پورے کے پورے داخل ہیں۔" مگر آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ دو مفسرین کے بارے میں یہ جو انکشاف کیا گیا ہے کہ ان کے نزدیک اقیمو الدین کے اس حکم میں شریعت کے تمام احکام اپنی پوری تفصیل کے ساتھ داخل ہیں۔ وہ ان کی اصل عبارتوں میں لکھا ہوا موجود ہے۔ بلکہ اس کا ماخذ دوسرا ہے۔ اور وہ ہے :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page