خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی
Urdu book, p. 84
By Maulana Wahiduddin Khan
عبارت کے کچھ حصوں کو حذف کر کے مفسر کی ایک بات کو غلط رنگ میں پیش کرنا۔ جن دو مفسروں کے حوالے دیے گئے ہیں وہ علامہ صاوی اور شیخ سلیمان ہیں، ان دونوں بزرگوں نے جلالین کی شرح لکھی ہے۔ جلالین میں أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ کی تشریح ان الفاظ میں کی گئی تھی: هَذَا هُوَ الْمَشْرُوعُ الْمُوصَى بِهِ وَالْمُوحَى إِلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ التَّوْحِيدُ (تفسیر الجلالین، صفحہ 640)۔ دونوں شارحین نے اس تفسیر سے اتفاق کیا ہے اور اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ أَقِيمُوا الدِّينَ کے اس مخصوص حکم میں تو توحید ہی کی اقامت مراد ہے۔ مگر اس سے پہلے الَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ کا جو فقرہ ہے وہ اس سے عام ہے اور اس کے مفہوم میں ساری وحی محمدی شامل ہے۔ دونوں کی متعلقہ عبارت ملاحظہ ہو: شیخ سلیمان: ثُمَّ فَسَّرَ المَشْرُوعَ الَّذِي اشتَرَكَ فِيهِ هَؤُلَاءِ أَعْلَامٌ مِنْ رُسُلِهِ بِقُولِهِ: ”أَن أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ وَالْمُرَادُ مِنْ إِقَامَةِ الدِّينِ هُوَ تَوْحِيدُ اللَّهِ وَالإِيمَانُ بِهِ وَبِكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ، وَطَاعَةُ اللَّهِ فِي أَوَامِرِهِ وَنَوَاهِيهِ وَسَائِرِ مَا يَكُونُ الرَّجُلُ بِهِ مُسْلِمًا، وَلَمْ يُرِدِ الشَّرَائِعَ الَّتِي هِيَ مَصَالِحُ الأُمَمِ عَلَى حَسَبِ أَحْوَالِهَا، فَإِنَّهَا مُخْتَلِفَةٌ مُتَفَاوِتَةٌ ... قَوْلُهُ أَن أَقِيمُوا الدِّينَ الْمُرَادُ بِإِقَامَتِهِ تَعْدِيلُ أَرْكَانِهِ وَحِفْظُهُ مِنْ أَنْ يَقَعَ فِيهِ زَيْغٌ وَالْمُوَاضَبَةُ عَلَيْهِ ... وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ ... أَيْ لَا تَتَفَرَّقُوا فِي الدِّينِ الَّذِي هُوَ عِبَارَةٌ عَمَّا ذُكِرَ مِنَ الأُصُولِ، دُونَ الفُرُوعِ المُخْتَلِفَةِ حَسَبَ اخْتِلَافِ الأُمَمِ بِاخْتِلَافِ الأَعْصَارِ، كَمَا يَنْطَبِقُ بِهِ قَوْلُهُ تَعَالَى: ”لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجاً“ ... قوله وهو التوحيد هذا لهو المراد بالدّين الذي اشترك فيه هؤلاء الرُّسُلُ ... وأمّا الذي في قوله: ”وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ“ فهو أعمُّ من ذلك، لأنَّ المراد به جميعُ الشريعة ے یہ جلالین کا فقرہ ہے۔ جلالین میں أَقِيمُوا الدِّينَ کی تشریح میں وهو التوحید کے الفاظ ہیں، شیخ سلیمان یہاں اس کو نقل کر کے اس کی وضاحت کر رہے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader