خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی
Urdu book, p. 85
By Maulana Wahiduddin Khan
المحمدیۃ، اصولاً و فرواعاً (الفتوحات الالہیۃ للشیخ سلیمان الجیلی، جلد 7، صفحہ 48-46)۔ قال العلامۃ الصاوی: وقولہ ”شَرَعَ لَکُم“ الخطاب لأمّۃ محمّد صلّی اللہ علیہ وسلم، والمعنٰی: بیّنَ لکم وجعلَ لکم دیناً قویاً واضحاً تطابقت علی صحتہ الانبیاءُ والرُّسُلُ من قبلُ... والمقصودُ بإقامةِ الدِّینِ هو تعدیلُ أركانه وحفظُه والمواظبةُ علیہ... وقولہ ”(وهو التوحید)“ بیانٌ للمرادِ من الدِّینِ الذي اشتَرَکَ فیہ هؤلاءِ الرُّسُلُ. وأما قولہ ”وَالَّذِیْ أَوْحَیْنَا إِلَیْکَ“ فهو أعمُّ من ذلك، إذ إنَّ المرادَ بہ جمیعُ الشریعۃ، اصولاً وفروعاً، وإنَّما اقتصرَ علی التَّوحیدِ لأنَّہ رأسُ الدّینِ وأساسُہ ( حاشیۃ العلامۃ الصاوی علی تفسیر الجلالین، جلد 6، صفحہ 151-150)۔ مندرجہ بالا اقتباسات صاف طور پر ظاہر کر رہے ہیں کہ ان کی طرف موصوف نے ایک ایسی بات منسوب کر دی ہے جو انہوں نے خود نہیں کہی تھی۔ دونوں شارحین نے جو کچھ کہا ہے، وہ یہ ہے کہ أَقِیْمُوا الدِّینَ کے فقرے میں تو صرف توحید اور اس کے بنیادی تقاضوں کی اقامت کا حکم ہے۔ جیسا کہ جلالین میں مذکور ہے، نہ کہ تفصیلی شریعت کا۔ مگر دوسرے فقرے اَلَّذِیْ أَوْحَیْنَا إِلَیْکَ کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ کیوں کہ اس کے مفہوم میں ساری وحی محمدی شامل ہے۔ مگر علامہ صاوی اور شیخ سلیمان نے جو بات اَلَّذِیْ أَوْحَیْنَا إِلَیْکَ کے بارے میں کہی تھی، اس کو أَقِیْمُوا الدِّینَ کے فقرے کے ساتھ جوڑ کر یہ دعویٰ کر دیا گیا کہ دونوں بزرگوں کے نزدیک ”اقامت دین کے اس حکم میں شریعت کے تفصیلی احکام بھی داخل ہیں اور پورے کے پورے داخل ہیں“۔ 4- ”اظہار دین“ کی آیت کے سلسلے میں میرا موقف یہ ہے کہ اکثر مفسرین نے لیظهره کا فاعل خدا کو مانا ہے، اس کے علاوہ دیگر قرآن بھی موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں خدا کا ایک منصوبہ یا فیصلہ بیان کیا گیا ہے، جس کو اس نے رسول کے ذریعہ پورا فرمایا۔ اس لیے اس سے رسول کا وہ مشن اخذ نہیں کیا جا سکتا جس کا وہ بحیثیتِ ”انسان“

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader