خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی
Urdu book, p. 86
By Maulana Wahiduddin Khan
مکلف ہوتا ہے۔ اور ختمِ رسالت کے بعد اب جس کی پیروی ہمیں کرنی ہے۔ موصوف نے میرے اس خیال کی تردید کی ہے اور اس کے متعلق اپنے کچھ دلائل دیے ہیں۔ مگر یہ حیرت انگیز بات ہے کہ آگے چل کر انہوں نے خود ہی اپنی بات کی بھی تردید کردی ہے، فرماتے ہیں: "مانا کہ آیت اظہارِ دین میں اظہارِ دین کو صراحت کے ساتھ رسول کا مشن نہیں قرار دیا گیا ہے۔" کاش موصوف اپنے اس اعتراف کے بعد اس آیت سے رسول کا منصبی مشن ثابت کرنے کی کوشش نہ کرتے۔ کیوں کہ ایسا استدلال جس کے متعلق یہ تسلیم کر لیا گیا ہو کہ وہ ”صریح“ نہیں ہے مشن جیسے مسئلہ کو ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہوسکتا۔ مندرجہ بالا فقرے میں موصوف نے اگرچہ یہ تسلیم کر لیا ہے کہ لیظہرہ علی الدین کلہ والی آیت اظہارِ دین کو رسول کا مشن ثابت کرنے کے لیے صریح نہیں ہے۔ مگر اصولاً وہ اسی کے قائل ہیں کہ اظہارِ دین ہی رسالت کا مشن ہے۔ ان کے نزدیک اس کے لیے دوسرے اس سے زیادہ واضح نصوص موجود ہیں ان کا یہ پورا حصہ میں ذیل میں نقل کرتا ہوں تا کہ موصوف کی بات مکمل طور پر سامنے آجاۓ۔ ”دین کے غالب کر دیے جانے کا ذکر صرف اسی ایک آیت میں نہیں ہے بلکہ الفاظ و اندازِ بیان کے فرق کے ساتھ دوسری آیتوں میں (اور کچھ حدیثوں میں بھی موجود ہے، مثلاً وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة ويكون الدين كله لله کی آیت اور امرت ان اقاتل الناس حتى يقولوالا اله الا الله کی حدیث۔ مانا کہ آیت اظہارِ دین میں، اظہارِ دین کی صراحت کے ساتھ رسول کا مشن نہیں قرار دیا گیا ہے۔ لیکن کیا ان نصوص کے بارے میں بھی ایسا ہی کہا جاسکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ نہیں، کیوں کہ ان ارشادات میں یہ بات پوری وضاحت سے فرما دی گئی ہے کہ رسول اس پر مامور ہیں اور اتباع رسول کا یہ فرض ہے کہ اس وقت تک لڑتے رہیں جب تک کہ لوگ اسلام کا اقرار نہ کرلیں اور دین سارے کا سارا اللہ ہی کے لیے نہ ہو جائے ، دوسرے لفظوں میں یہ کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader