خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی
Urdu book, p. 87
By Maulana Wahiduddin Khan
خالص اسلامی اسٹیٹ قائم نہ ہو جائے ۔ ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ کفار و مشرکین سے اس وقت تک لڑتے رہنا جب تک وہ لا الہ الا اللہ کا اقرار نہ کر لیں یا جب تک فتنہ مٹ کر دین پورے کا پورا اللہ ہی کے لیے نہ ہو جائے۔ اور اسلامی نظام یا اسٹیٹ کے لیے جدوجہد کرتے رہنا، ایک ہی حقیقت کی دو مختلف تعبیریں ہیں۔ میں عرض کروں گا کہ اظہار دین کی آیت کو "رسول کا مشن" ماننے میں جو اشکالات تھے اس سے بدر جہاں زیادہ اشکالات اس آیت اور حدیث سے رسول کا مشن اخذ کرنے میں ہیں جس کو موصوف نے پیش کیا ہے۔ حدیث بتاتی ہے کہ لوگوں سے اس وقت تک "قتال" کیا جائے جب تک وہ لا الہ الا اللہ اپنی زبان سے نہ کہہ دیں، اور نماز اور زکوٰۃ کی پابندی اختیار کر لیں۔ کیا یہی رسول کا مشن تھا۔ کیا رسول اسی لیے بھیجا گیا تھا کہ وہ تلوار کی نوک پر لوگوں سے کلمہ پڑھوائے۔ موصوف کو یاد نہیں رہا کہ اس حدیث کو رسول کا "مشن" قرار دینے میں نہ صرف یہ کہ لا اکراہ فی الدین سے ٹکراؤ ہو رہا ہے بلکہ آخری رسول کا مشن اپنی نوعیت میں تمام انبیاء سے مختلف قرار پاتا ہے۔ کیوں کہ کسی بھی دوسرے نبی کے بارے میں یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ اس کو یہ حکم ملا تھا کہ وہ تلوار کے زور سے لوگوں کو مسلمان بنائے۔ یہی معاملہ آیت کا بھی ہے۔ یہ آیت معمولی لفظی فرق کے ساتھ دو سورتوں میں آئی ہے (البقرہ، 2: 193 ؛ الانفال، 8:39) ان دونوں آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ "ان سے جنگ کرتے رہو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین خالصۃ اللہ کے لیے ہو جائے اور وہ باز آجائیں (انتھوا)۔ اس آیت میں تین الفاظ قابل غور ہیں: فتنة، دين، انتهاء ابن عباس، قتادہ، سدی، حسن، ابو العالیہ، مجاہد، ربیع، مقاتل، زید بن اسلم اور دوسرے مفسرین کی تقریباً متفقہ تشریح کے مطابق یہاں فتنہ سے مراد شرک ہے۔ دین کا مطلب توحید ہے اور انتہا کا مطلب ہے شرک سے باز آنا، اس تشریح کے مطابق آیت کا مطلب یہ ہوا کہ "ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ وہ اپنے دین سے باز آجائیں اور شرک کو چھوڑ کر توحید قبول کر لیں۔"

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader