Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی

Urdu book, p. 88

By Maulana Wahiduddin Khan

اب ظاہر ہے کہ اگر اس آیت کو رسول کے مشن کی آیت قرار دیا جائے تو اس پر وہی اعتراض واقع ہوتا ہے جو او پر حدیث کے سلسلے میں ہم لکھ چکے ہیں یعنی رسول کو خدا نے اس لیے بھیجا تھا کہ وہ لڑا لڑ کر لوگوں سے کلمہ پڑھوائے۔ موصوف نے اس اشکال کی یہ عجیب وغریب توجیہ پیش کی ہے کہ ”اس وقت تک لڑتے رہنا جب تک لوگ لا الہ الا اللہ نہ کہہ دیں، دوسرے لفظوں میں خالص اسلامی اسٹیٹ قائم ہو جانے کے ہم معنی ہے“۔ یہ توجیہ نہ تاریخ سے ثابت ہوتی ہے اور نہ حکم کے الفاظ سے۔ ظاہر ہے کہ لا الہ الا اللہ کہلانے کے معنی ہیں مسلمان بنانا جب کہ اسلامی اسٹیٹ قائم ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کے تمام ماتحتوں نے دین اسلام قبول کر لیا۔ اگر لوگ سیاسی اطاعت اور ملکی قوانین کو تسلیم کر لیں تو اس کے بعد کسی اسلامی اسٹیٹ کو یہ حق نہیں ہے کہ ان سے مطالبہ کرے کہ تم کلمہ پڑھو اور نماز ادا کرنے کے لیے ہماری مسجدوں میں آؤ۔ غرض میں تو اس توجیہ کو بالکل سمجھ نہ سکا۔ البتہ ادارہ ثقافت اسلامیہ یا ادارۂ اطلاع اسلام شاید اس کی معنویت سمجھ سکے۔ کیوں کہ وہ اس طرح کی توجیہات میں کافی درک رکھتا ہے۔ اظہار دین کی آیت سے رسول کا مشن اخذ کرنے کے سلسلے میں ایک اعتراض میرا یہ تھا کہ قرآن میں کسی اور نبی کے لیے اس قسم کے الفاظ نہیں آئے ہیں۔ اس لیے جب کہ ہمارا اعتقاد ہے کہ ہر رسول ایک ہی کام کے لیے بھیجا گیا تھا، اس آیت سے ہم آخری رسول کا منصبیر مشن اخذ نہیں کر سکتے۔ اس کے جواب میں لکھتے ہیں: ”آخری رسول کا مشن دوسرے انبیاء سے مختلف تو نہیں تھا، مگر وسیع یقیناً تھا۔ دوسرے انبیاء کا خطاب صرف ان کی اپنی قوم سے تھا جو کسی ایک دین کو ماننے والی تھی۔ جب کہ آنحضرت کا خطاب عام تھا۔ ہر گروہ ہر ملت اور ہر دین کے ماننے والوں کے لیے تھا اس لیے هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ (9:33) جیسے الفاظ میں آپ ہی کے مشن کو ظاہر کیا جا سکتا تھا، کسی اور کے نہیں۔“

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page