خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی
Urdu book, p. 89
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ سطریں پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے گویا موصوف آیت میں لفظ ’’کل‘‘ کے استعمال کی توجیہ فرما رہے ہیں۔ حالانکہ مسئلہ یہ نہیں تھا۔ اصل سوال تو یہ تھا کہ انبیاء کا مشن اپنی نوعیت کے اعتبار سے اگر ’’اظہار دین‘‘ ہوتا ہے تو قرآن میں ہر نبی کے لیے اسی قسم کے الفاظ آنے چاہئیں ۔ اب اگر انبیاء کے دائرہ خطاب میں وسعت اور تنگی کا فرق تھا تو اس سے اصل مشن کی تعبیر پر کوئی فرق نہیں پڑ سکتا۔ اس فرق کا مطلب تو صرف یہ تھا کہ دیگر انبیاء کے بارے میں کہا جاتا کہ وہ فلاں مخصوص قوم پر ’’اظہار دین‘‘ کرنے کے لیے بھیجے گئے تھے۔ اور آخری رسول کو تمام اقوام و ملل پر اظہار دین کرنے کے لیے مبعوث کیا گیا۔ موصوف نے آخری رسول اور دیگر انبیاء میں جس فرق کی نشاندہی فرمائی ہے وہ صرف حلقہ کار یا دائرہ خطاب کی وسعت اور تنگی کا فرق ہے۔ جب کہ اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے انھیں دونوں کے درمیان نوعیت کا فرق بتانے کی ضرورت تھی۔ خادم وحیدالدین
اس مکتوب کو بھیجنے کے بعد مجھے مولانا ابو اللیث صاحب کی طرف سے 27 اگست کا لکھا ہوا ایک خط ملا جس میں حسب ذیل الفاظ درج تھے: ’’عبدالحئی صاحب کے ذریعہ لفافہ مل گیا ہے۔ خیال ہو رہا ہے کہ انھیں کے ذریعہ آپ کے تاثرات مولانا صدرالدین صاحب کے پاس بھیج دوں ، تاکہ وہ بھی اسے دیکھ لیں اور اگر ان کے سلسلے میں وہ آپ کو کچھ لکھنا چاہیں تو لکھ دیں۔‘‘ مولانا صدرالدین صاحب نے میرا جواب دیکھنے کے بعد دوبارہ اس پر تبصرہ کرنے سے معذوری ظاہر کی جس کی تفصیل مولانا صدرالدین صاحب کی خط و کتابت میں درج ہے۔ اب تک کی یہ ساری گفتگو اور بحث میں جماعت اسلامی کے شعبہ تصنیف سے متعلق رہتے ہوئے کر رہا تھا۔ مگر اب یہ بحث جس مقام پر پہنچ گئی تھی اس کے بعد مجھے ضروری معلوم ہوا کہ میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader