Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی

Urdu book, p. 90

By Maulana Wahiduddin Khan

اس وقت شعبہ تصنیف سے علیحدہ ہو جاؤں۔ چنانچہ میں نے امیر جماعت کے نام حسب ذیل تحریر روانہ کی ۔ رام پور، یکم ستمبر 1962 ء محترمی مولانا ابو اللیث صاحب امیر جماعت اسلامی ہند سلام مسنون گرامی نامہ مورخہ 27 اگست ملا۔ آپ نے لکھا ہے کہ: ”مولانا جلیل احسن صاحب کا جواب آگیا ہے۔ وہ خط و کتابت کے لیے آپ کے گھر جانے کو ضروری نہیں سمجھتے ہیں اور آپ سے ان کی خط و کتابت غالباً شروع بھی ہو چکی ہے ۔ اس لیے کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ آپ رام پور ہی میں رہ کر خط و کتابت کریں۔“ جواباً عرض ہے کہ اس سے پہلے میں نے آپ کو لکھا تھا کہ مولانا صدر الدین صاحب کا جواب ملنے کے بعد یکم ستمبر تک میں کسی آخری فیصلہ تک پہنچ جانا چاہتا ہوں۔ لیکن میں ابھی کسی فیصلہ تک نہیں پہنچ سکا۔ کیوں کہ اس کے بعد مولانا جلیل احسن صاحب نے کچھ اس طرح کے ناصحانہ خطوط لکھے جس کے بعد مجھے یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ میں ان کے تبصرہ کا انتظار کروں، انہوں نے لکھا ہے کہ آپ بے صبری سے کام نہ لیں بلکہ مجھ سے خط و کتابت کریں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ پر اپنی فکر کی غلطی واضح ہو جائے ۔ ایک طرف یہ صورت حال ہے۔ دوسری طرف اپنی موجودہ ذہنی حالت کے پیش نظر جماعت کے ایک فکری شعبہ سے وابستہ رہنا مجھے مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ اس لیے سمجھ میں آتا ہے کہ میں شعبہ تصنیف کے ساتھ اپنے موجودہ تعلق سے کنارہ کش ہو جاؤں اور اس کے بعد رام پور میں یا اعظم گڑھ میں رہ کر مولانا جلیل احسن صاحب اور دیگر اہل علم رفقاء سے تبادلہ خیال کر کے کسی نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کروں۔ ان کوششوں کا بالاخر جو نتیجہ نکلے گا، اس کے مطابق یا تو جماعت کی موجودہ خدمت میں دوبارہ واپس آ جاؤں گا یا پھر اپنے طور پر جو مناسب معلوم ہوگا کروں گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page