Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی

Urdu book, p. 91

By Maulana Wahiduddin Khan

” فکری اختلاف کی بنا پر شعبہ تصنیف سے علیحدگی “ کی بات اگر چہ نئی نہیں ہے، آپ کو یاد ہوگا کہ پچھلے دو سال سے بار بار میں آپ سے یہ درخواست کرتا رہا ہوں، مگر اب اس کی حیثیت میں اتنا فرق ہو چکا ہے کہ ضروری ہو گیا ہے کہ میں درخواست کے بجائے اصرار کروں۔ کیوں کہ اس سے پہلے جب بھی میں نے کہا تو آپ کا جواب یہ تھا کہ میرے فکر اور جماعت کی فکر میں کوئی فرق نہیں ہے۔ یہ محض میری شدت پسندی ہے کہ میں دونوں کو الگ الگ محسوس کرتا ہوں، آپ نے یہ بھی صراحت کے ساتھ فرمایا تھا میں جو کچھ چاہتا ہوں، جماعت بھی اسے چاہتی ہے۔ اس لیے میں اپنے فکر کے مطابق کام کرتا رہوں اور خواہ مخواہ کی ذہنی خلش میں مبتلا نہ ہوں۔ آپ کے اس جواب کے تحت اب تک تو میرے لیے شعبہ تصنیف سے وابستگی کے لیے وجہ جواز نکل سکتی تھی۔ مگر اب صورت حال بدل گئی ہے۔ کیوں کہ آپ کی طرف سے مولانا صدر الدین صاحب کا 22 صفحات کا جو تبصرہ میرے حوالے کیا گیا ہے۔ اس میں اس تصدیق کو تسلیم نہیں کیا گیا ہے بلکہ مکمل طور پر میرے خیالات کی تغلیط کی گئی ہے، اس میں میری فکر کو جماعت کی فکر سے مختلف ظاہر کرتے ہوئے میری تردید ہے اور جماعت کی تائید۔ اس طرح اگرچہ اصالتاً نہیں مگر وکالتاً گویا آپ نے اپنے سابقہ جواب کو واپس لے لیا ہے۔ اس وجہ سے اب یہ بالکل ضروری ہو گیا ہے کہ شعبہ تصنیف سے علیحدگی کے بارے میں میری جس درخواست کو اب تک آپ نے قبول نہیں فرمایا تھا، اب اس کو قبول فرمائیں۔ اور مجھے اس خدمت سے باضابطہ طور پر الگ کر دیں۔ مزید عرض ہے کہ اس سبک دوشی کے بعد میں جہاں رہوں گا وہاں کی مقامی جماعت سے میرا کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ فی الحال میں صرف اپنی ذہنی الجھن کے سلسلے میں مطالعہ، تبادلہ خیال یا بیرونی اہلِ علم سے خط و کتابت وغیرہ میں مصروف رہوں گا۔ اس کے سوا اس دوران میں جماعتی حیثیت سے میرے اوپر کوئی ذمہ داری نہیں ہوگی۔ خادم وحید الدین

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page