خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی
Urdu book, p. 92
By Maulana Wahiduddin Khan
رام پور، 5 ستمبر 1962ء برادر عزیز، السلام علیکم آپ کا گرامی نامہ مورخہ یکم ستمبر 62ء موصول ہوا۔ یہ معلوم کر کے مجھے افسوس ہوا کہ جماعت کے نصب العین اور موقف کے بارے میں آپ کو مطمئن کرنے کے لیے جو کوششیں ہماری طرف سے کی گئیں وہ کامیاب نہیں ہوسکیں اور آپ کا فکری اختلاف اپنی جگہ قائم ہے۔ تاہم اس سے یک گونه اطمینان محسوس ہو رہا ہے کہ آپ ابھی اپنی ذہنی الجھن کے سلسلے میں مطالعہ اور اور مولانا جلیل احسن صاحب وغیرہ جیسے اہل علم حضرات سے تبادلہ خیال کی ضرورت محسوس کر رہے ہیں۔ اور اس سلسلے میں ان سے خط و کتابت بھی کر رہے ہیں۔ دعا ہے کہ اس کے نتیجے میں آپ کی ذہنی خلش دور ہو جائے اور حسب سابق آپ کی صلاحیتیں تحریک کے لیے مفید ثابت ہوں۔ بحالات موجودہ آپ کی یہ خواہش ہر طرح مناسب معلوم ہوتی ہے کہ آپ سردست شعبۂ تصنیف سے اپنا تعلق منقطع کر لیں، تاکہ زیادہ یکسو ہو کر مطالعہ و تحقیق کر سکیں ۔ البتہ آپ کی اس خواہش سے میں اتفاق نہیں کر سکتا کہ شعبۂ تصنیف کی ذمہ داریوں سے سبک دوشی کے بعد آپ جہاں رہیں، وہاں کے نظم جماعت سے آپ کا تعلق نہ ہو، اور اس مدت میں مطالعہ و تحقیق کے علاوہ آپ پر جماعتی حیثیت سے کوئی ذمہ داری نہ رہے، آپ اس سے بخوبی واقف ہیں کہ رکن رہتے ہوئے نظم جماعت کی پابندی بہر حال ضروری ہے۔ البتہ آپ کے مخصوص حالات کے لحاظ سے زیادہ سے زیادہ جو گنجائش میں نکال سکتا ہوں، وہ صرف یہ ہوسکتی ہے کہ اس مدت میں آپ پر باقاعدہ دعوتی کام کی کوئی ذمہ داری نہ ڈالی جائے گی، لیکن ہفتہ وار اجتماعات کی شرکت تو بہر حال ضروری ہے۔ کیوں کہ اگر اتنا بھی نہ ہو تو رکنیت کے کوئی معنی نہیں رہ جاتے اور اس سے ذہنوں میں طرح طرح کے سوالات بھی پیدا ہوں گے۔ نظم جماعت سے وابستگی کا ایک تقاضا میرے نزدیک یہ بھی ہے کہ اس کو باقی رکھتے ہوئے آپ کو جماعت کے اندر اور جماعت سے باہر اپنے مخصوص خیالات کی تبلیغ و اشاعت سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader