خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی
Urdu book, p. 93
By Maulana Wahiduddin Khan
احتراز کرنا چاہیے۔ زیادہ سے زیادہ آپ یہ کر سکتے ہیں کہ اس کے متعلق آپ جماعت کے اہل علم سے تبادلۂ خیال کریں اور اگر آپ جماعت کے باہر کے کسی عالم سے تبادلۂ خیال ضروری ہی سمجھیں تو اس کے لیے آپ کو خالص علمی انداز اختیار کرنا چاہیے، نہ کہ اس طور پر کہ آپ کو جماعت کے نقطۂ نظر سے کچھ اختلاف ہو چکا ہے۔ امید ہے آپ میری ان باتوں سے اتفاق کریں گے اور اپنے جواب سے مطلع فرمائیں گے۔ والسلام ابواللیث
شعبۂ تصنیف سے استعفیٰ منظور ہونے کے بعد رام پور سے رخصت ہو کر میں اپنے وطن اعظم گڑھ چلا آیا۔ یہاں سے کچھ دنوں خطوط کا تبادلہ ہوتا رہا بالآخر میں نے حسب ذیل خط روانہ کیا۔ اعظم گڑھ، 15 اکتوبر 1962ء محترمی مولانا ابو اللیث صاحب سلام مسنون گرامی نامہ مورخہ 19 اکتوبر ملا۔ اس پر غور کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اس طرح کی جزئی بحثیں اگر میں نے جاری رکھیں تو وہ کبھی ختم نہیں ہوں گی۔ اس لیے مناسب یہی معلوم ہوتا ہے کہ اب تک کے غور وفکر کے بعد میں جس نتیجے پر پہنچا ہوں اس کو آخری طور پر آپ کے سامنے رکھ دوں۔ یہ حقیقت اب کافی کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ مجھ کو جماعت اسلامی کے انداز فکر سے اختلاف ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب میرے اور جماعت کے درمیان نظریاتی اتحاد کا رشتہ کمزور ہو چکا ہے۔ مگر اس کے بعد بھی دو امکانات ایسے تھے جن کی بنا پر میں اب بھی جماعت اسلامی سے وابستہ رہنے کے لیے سوچ سکتا تھا۔ مگر افسوس کہ یہ امکانات بھی اب باقی نہیں رہے۔ پہلی بات یہ کہ میں سمجھتا تھا کہ میرا نظریاتی اختلاف زیادہ تر صرف مولانا مودودی کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader