Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی

Urdu book, p. 94

By Maulana Wahiduddin Khan

لٹریچر سے ہے۔ ورنہ جہاں تک موجودہ ذمہ داروں کا تعلق ہے وہ میرے نقطۂ نظر سے بڑی حد تک اتفاق کریں گے ۔ چنانچہ مولانا صدر الدین صاحب نے میرے اندازے کے خلاف مکمل طور پر میری تردید کی تو میں نے رام پور میں ایک رفیق سے کہا کہ ’’مولانا نے اس میں صدرالدین اصلاحی کی حیثیت سے جواب نہیں دیا ہے بلکہ جماعت اسلامی کی وکالت کی ہے۔‘‘ اس کی ایک نمایاں مثال یہ ہے کہ اس سے پہلے تیسرا القرآن میں قاتِلُوهُم حَتَّى لا تَكُونَ فِتنَةٌ کی تشریح میں انہوں نے مولانا مودودی سے اختلاف کیا تھا اور بعینہ وہی بات لکھی تھی جو میں نے اپنی تحریر میں پیش کی ہے۔ مگر اب جو میرا جواب دینے بیٹھے تو لفظ بلفظ مولانا مودودی کی حمایت کردی (مقابلے کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن اور تیسیر القرآن میں سورہ بقرہ کی آیت 193 کا حاشیہ)۔ مگر ظاہر ہے کہ یہ میرا ذاتی احساس ہے۔ ورنہ آپ حضرات نے اپنے جواب میں جو موقف اختیار کیا ہے، اسی کو مجھے آپ کا واقعی موقف سمجھنا چاہیے ۔ اور اس لحاظ سے جب میں سوچتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ میرے لیے اب یہ گنجائش باقی نہیں رہی کہ میں مولانا مودودی کے لٹریچر سے اختلاف کے بعد اس بنیاد پر جماعت اسلامی ہند سے وابستہ رہوں کہ جہاں تک موجودہ ذمہ داروں کا تعلق ہے وہ میرے نقطۂ نظر سے قریب ہیں۔ صدرالدین صاحب کا جواب جو آپ کی طرف سے مجھے دیا گیا ہے۔ اس نے میری اس خوش فہمی یا غلط فہمی کو مکمل طور سے ختم کر دیا ہے۔ دوسری بات عملی صورت حال سے تعلق رکھتی ہے۔ ایسا ہوتا ہے کہ ذہنی اور فکری اختلاف کے باوجود دو اشخاص کسی مشترک مقصد کی خاطر مخلصانہ تعاون کے لیے آمادہ ہو جاتے ہیں۔ اور میں کسی بھی مرحلہ میں اپنے آپ کو اس کے لیے راضی کر سکتا تھا۔ مگر اب مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خلوص کی وہ فضا ہمارے اور آپ کے درمیان باقی نہیں رہی ہے جس میں اس طرح کا تعاون ہوا کرتا ہے۔ اس سے پہلے مجھے اس سلسلے میں بعض زبانی رپورٹیں ملی تھیں، مگر میں نے کبھی انہیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page