خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی
Urdu book, p. 95
By Maulana Wahiduddin Khan
اہمیت نہیں دی۔ لیکن اب مجھے ذاتی طور پر ایک ایسی تحریر ملی ہے جس کو کسی طرح نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ آپ کا وہ خط ہے جو آپ نے میری جوابی تحریر مولانا صدر الدین صاحب کے پاس بھیجتے ہوئے ان کے نام دہلی سے لکھا تھا۔ صدر الدین صاحب نے جب رامپور میں مجھے میری تحریر واپس کی تو لفافہ کے اندر آپ کا وہ خط بھی پڑا ہوا تھا۔ یہ خط آپ کے ہاتھ سے پنسل سے لکھا ہوا ہے، اور اس کے ضروری حصہ کی نقل یہ ہے : وحید الدین خاں صاحب کی تازہ تحریر بھیج رہا ہوں۔ اسے پڑھ کر مطلع فرمائیے کہ ابھی ان سے کچھ بات کرنے کی گنجائش ہے یا ان کو لکھ دیا جائے کہ ہم کو جو کچھ کرنا تھا کر چکے۔ اب وہ اپنے لیے جو فیصلہ چاہیں کر لیں۔ مجھے تو اب ان کی طرف سے تقریباً مایوسی ہی ہے۔ مولانا جلیل احسن صاحب نے بھی مراسلت شروع کر دی ہے۔ لیکن اول تو مجھے یہ امید نہیں کہ خاں صاحب ان کے طرز یا طریق کی تاب لا سکیں گے۔ دوسرے وہ اب اس مرحلہ میں داخل ہو چکے ہیں جس میں کسی کی بھی بات شاید کچھ اثر انداز نہ ہو سکے۔ یوں بعد کو پلٹا کھائیں تو بات دوسری ہے۔ بہرحال میں نے جلیل احسن صاحب کو لکھ دیا ہے کہ جو کچھ ان کو پڑھانا لکھانا ہے، جلد اس سے فارغ ہو جائیں اور وحید الدین صاحب کو یہ کہ مراسلت کے لیے اعظم گڑھ جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ بہتر یہ ہوگا کہ رام پور ہی میں رہ کر خط و کتابت کریں۔ دیکھیے کیا جواب دیتے ہیں، آپ کا جواب آنے پر پھر اس کے مطابق وحید صاحب کو خط لکھ دوں گا۔ ( اقتباس خط مورخہ 28 اگست 1962ء ) آپ کا یہ خط میرے لیے کس قدر تکلیف دہ ہے میں اس کو بیان نہیں کر سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس خط نے خوش گمانی کی وہ تمام بنیادیں ڈھا دیں جو نظریاتی اختلافات کے باوجود میں نے آپ سے قائم کر رکھی تھیں۔ انصر صاحب اور دیگر رفقاء جن سے میں رام پور میں قریبی تعلق رکھتا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader