خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی
Urdu book, p. 96
By Maulana Wahiduddin Khan
تھا، وہ گواہی دیں گے کہ میں آپ کے بارے میں کتنے اچھے خیالات رکھتا تھا۔ مگر افسوس کہ آپ کی اس تحریر نے ان تمام باتوں کی تصدیق کر دی جن کو میرے کان عرصہ سے سن رہے تھے۔ مگر میرا دل جن پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا تھا۔ کس قدر حیرت کی بات ہے کہ اس طویل مدت میں جب سے میری یہ بحث چل رہی ہے آپ نے ایک بار بھی اپنی اس حق پسندی اور خیر خواہی کا ثبوت نہیں دیا کہ آپ مجھے زبانی یا تحریری طور پر مطمئن کرنے کی کوشش کرتے۔ حتی کہ اس سلسلے میں آپ کو میں نے آپ کا وہ وعدہ یاد دلایا جو آپ نے اپنے خط مورخہ 29 جنوری 1962ء میں کیا تھا، "رہا میری ذاتی رائے کا سوال تو اگر آپ اسے معلوم کرنا چاہیں گے تو تحریر پر پڑھنے کے بعد میں بے تکلف عرض کر دوں گا۔" پھر بھی آپ خاموش رہے۔ صدر الدین صاحب کی تحریر کے جواب میں جو کچھ میں نے لکھا اور اس میں جو صریح حقیقتیں میں نے پیش کیں، ان پر بھی میرے اصرار کے باوجود آپ نے قطعا کوئی تبصرہ نہیں فرمایا۔ البتہ کیا تو یہ کہ جلیل احسن صاحب کو لکھ دیا کہ مجھے "پڑھانا لکھانا" شروع کر دیں۔ اس کے باوجود آپ میرے بارے میں وہ الفاظ لکھتے ہیں جو مذکورہ بالا خط کی ابتدا میں درج ہیں۔ پھر آپ کا یہ جملہ کہ "یوں بعد کو پلٹا کھائیں تو بات دوسری ہے۔" وہ تو اتنا سخت ہے کہ اس کو پڑھنے کے بعد مجھے ایسا محسوس ہوا گویا آپ نے مجھے ذبح کر دیا ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے میرے اندر یہ حس تو زندہ نہیں ہے کہ حق سامنے آئے تو اسے پہچانوں اور اسے قبول کرلوں۔ البتہ اس ذلیل حرکت کی ضرور آپ مجھ سے توقع رکھتے ہیں کہ "مصالح کی بنا پر قلابازی کھاؤں اور جس چیز کے خلاف آج تنقید کر رہا ہوں، اس کو محض کسی مفاد کے پیش نظر آئندہ بلا دلیل قبول کر لوں۔ کاش آپ کا یہ خط دیکھنے کے لیے میں زندہ نہ رہتا، کاش میں اس سے پہلے مر چکا ہوتا۔ آپ کے اس خط پر میں جتنا غور کرتا ہوں میرے ان احساسات میں اضافہ ہی ہوتا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس میں نہ حق پسندی کا اظہار ہے اور نہ اپنے ایک رفیق کے بارے میں واقعی خیر خواہی کا۔ اس میں نہ جماعت کا درد نظر آتا ہے اور نہ اسلام کا۔ پھر جب میں سوچتا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader