خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی
Urdu book, p. 97
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوں کہ میرے نام آپ کے خطوط اور مجھ سے آپ کی گفتگوؤں کا انداز اس سے بالکل مختلف رہا ہے جو صدرالدین صاحب کے نام آپ کے خط میں نظر آتا ہے تو مزید افسوس ہوتا ہے کیوں کہ دو عملی کا رویہ عام انسانی نقطہ نظر سے بھی کوئی مناسب بات نہیں ہے۔ مندرجہ بالا وجوہ سے اب مجھے جماعت اسلامی ہند سے وابستگی کی کوئی بنیاد نظر نہیں آتی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آخری ٹھہراؤ جو میرے لیے ممکن ہو سکتا تھا وہ بھی اپنی جگہ سے ہٹ گیا ہے۔ اس لیے گزارش ہے کہ جماعت اسلامی کے ارکان کی فہرست سے میرا نام خارج کر دیں۔ مندرجہ بالا نظریاتی اختلاف اور بے اعتمادی کی فضا میں اب میرے لیے جماعت میں رہنے کا کوئی سوال نہیں ہے۔ وحید الدین ❀❀❀❀❀ دہلی، 10 اکتوبر 1962ء برادر عزیز! السلام علیکم گرامی نامہ ملا، اگر آپ نے آخری طور سے یہ فیصلہ ہی فرما لیا ہے کہ آپ کو اپنے فکری اختلاف کی بنا پر جماعت کی رکنیت سے علیحدہ ہونا چاہیے تو ہم اس کے سوا کیا کر سکتے ہیں کہ اسے چار و ناچار برداشت کریں۔ ورنہ میرا اپنا خیال تو یہ ہے کہ آپ نے اس سے پہلے جو فیصلہ فرمایا تھا وہی زیادہ مناسب تھا، یعنی یہ کہ شعبہ تصنیف سے علیحدگی کے بعد آپ اپنا کچھ وقت مزید مطالعہ و تحقیق میں صرف فرمائیں اور اس دوران میں جماعت اور جماعت کے باہر کے اہل علم سے گفتگو و تبادلہ خیال بھی فرماتے رہیں، کیا عجب اس کے نتیجے میں جماعت اور آپ کے نقطہ نظر میں اتفاق کی کوئی شکل نکل آتی۔ ابھی تو وہ گفتگو بھی اختتام کو نہیں پہنچی ہے جو آپ کے اور مولانا صدرالدین صاحب کے درمیان چل رہی تھی، اور جیسا کہ میں اس سے پہلے لکھ چکا ہوں وہ آپ کے تبصرہ پر اپنا تبصرہ لکھنے کے لیے بھی آمادہ ہیں بشرطیکہ اس کا اندازہ وہ نہ ہو جو آپ نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader