Urdu book · تبلیغی تحریک

غیر مسلموں میں تبلیغ

Urdu book, p. 52

By Maulana Wahiduddin Khan

کی تھی کہ قرآن پاک کی تفسیر بے نقطہ لکھ دی۔ حالانکہ انہوں نے ہی اکبر کو گم راہ کرکے دین کو برباد کیا۔ تھا ۔ تو جو باتیں ابن ملجم اور ابو الفیض فیضی میں تھیں وہ امت بننے کے لیے اور خدا کی غیبی نفرت کے لیے کیسے کافی ہو سکتی ہیں ؟ حضرت شاہ اسمٰعیل شہیدؒ اور حضرت سید احمد شہیدؒ اور ان کے ساتھی دین داری کے لحاظ سے بہترین مجموعہ تھے۔ وہ جب سرحدی علاقے میں پہنچے اور وہاں کے لوگوں نے ان کو اپنا بڑا بنا لیا تو شیطان نے وہاں کے کچھ مسلمانوں کے دلوں میں یہ بات ڈالی کہ یہ دوسرے علاقے کے لوگ ہیں۔ ان کی بات یہاں کیوں چلے۔ انہوں نے ان کے خلاف بغاوت کرائی ۔ ان کے کتنے ہی ساتھی شہید کر دیئے گئے اور اس طرح خود مسلمانوں نے علاقائی بنیاد پر امت پنے کو توڑ دیا۔ اللہ نے اس کی سزا میں انگریزوں کو مسلط کیا۔ یہ خدا کا عذاب تھا۔ یاد رکھو میری قوم اور میرا علاقہ اور میری برادری یہ سب امت کو توڑنے والی باتیں ہیں اور اللہ تعالیٰ کو یہ باتیں اتنی ناپسند ہیں کہ حضرت سعد بن عبادہ جیسے بڑے صحابی سے اس بارے میں جو غلطی ہوئی (جو اگر دب نہ گئی ہوتی تو اس کے نتیجہ میں انصار و مہاجرین میں تفریق ہو جاتی ) اس کا نتیجہ حضرت سعد کو دنیا ہی میں بھگتنا پڑا۔ روایات میں یہ ہے کہ ان کو جنات نے قتل کر دیا۔ اور مدینہ میں یہ آواز سنائی دی اور بولنے والا کوئی نظر نہ آیا : قتد ناسید الخزرج سعد بن عبادہ ذ ہم نے قبیلہ خزرج کے سردار سعد بن عبادہ کو ہلاک رمی نا بسہم فلم يخط فواده ۔ کر دیا۔ ہم نے اس کو تیر کا نشانہ بنایا جو ٹھیک اس کے دل پر لگا ۔ اس واقع نے مثال قائم کر دی اور سبق دیا کہ اچھے سے اچھا آدمی بھی اگر قومیت یا علاقے کی بنیاد پر امت پنے کو توڑے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو توڑ کے رکھ دے گا ۔ امت جب بنے گی جب امت کے سب طبقے بلا تفریق اس کام میں لگ جائیں جو حضور صلعم اللہ علیہ وسلم دے کے گئے ہیں۔ اور یاد رکھو امت پنے کو توڑنے والی چیزیں معاملات اور معاشرت کی خرابیاں ہیں۔ ایک فرد یا طبقہ جب دوسرے کے ساتھ ظلم اور نا انصافی کرتا ہے اور اس کا پورا حق اس کو نہیں دیتا یا اس کو تکلیف پہونچاتا ہے۔ یا اس کی تحقیر اور بے عزتی کرتا ہے تو تفریق پیدا ہوتی ہے اور امت پنا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page