Urdu book · تبلیغی تحریک

غیر مسلموں میں تبلیغ

Urdu book, p. 53

By Maulana Wahiduddin Khan

ٹوٹتا ہے ۔ اس لیے میں کہتا ہوں کہ صرف کلمہ اور تسبیح سے امت نہیں بنے گی ۔ امت معاملات اور معاشرت کی اصلاح سے اور سب کا حق ادا کرنے اور سب کا اکرام کرنے سے بنے گی ، بلکہ جب بنے گی جب دوسروں کے لیے اپنا حق اور اپنا مفاد قربان کیا جائے گا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رض نے اپنا سب کچھ قربان کر کے اور اپنے پر تکلیفیں جھیل کے اس امت کو امت بنایا تھا ۔ حضرت عمر رض کے زمانے میں ایک دن لاکھوں کروڑوں روپے آئے۔ ان کی تقسیم کا مشورہ ہوا۔ اس وقت امت بنی ہوئی تھی۔ یہ مشورہ کرنے والے کسی ایک ہی قبیلہ یا ایک ہی طبقے کے نہ تھے بلکہ مختلف طبقوں اور قبیلوں کے وہ لوگ تھے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کے اعتبار سے بڑے اور خواص سمجھے جاتے تھے انہوں نے مشورہ سے باہم طے کیا کہ تقسیم اس طرح پر ہو کہ سب سے زیادہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قبیلہ والوں کو دیا جائے ، اس کے بعد حضرت ابوبکر رض کے قبیلہ والوں کو ، پھر حضرت عمر رض کے قبیلہ والوں کو ۔ اس طرح حضرت عمر رض کے اقارب تیسرے نمبر پر آئے ۔ جب یہ بات حضرت عمر رض کے سامنے رکھی گئی تو آپ نے اس مشورہ کو قبول نہیں کیا اور فرمایا کہ اس امت کو جو کچھ ملا ہے اور مل رہا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے اور آپ کے صدقے میں مل رہا ہے ، اس لیے بس حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلق کو معیار بنایا جائے ۔ جو نسب میں آپ سے زیادہ قریب ہوں ان کو زیادہ دیا جائے ، جو دوم ، سوم ، چہارم نمبر پر ہوں ان کو اسی نمبر پر رکھا جائے ۔ اس طرح سب سے زیادہ بنی ہاشم کو دیا جائے ، اس کے بعد بنی عبد مناف کو ، پھر قصی کی اولاد کو ، پھر کلاب کو ، پھر کعب کو ، پھر مرہ کی اولاد کو ، اس حساب سے حضرت عمر رض کا قبیلہ بہت پیچھے پڑ جاتا تھا اور اس کا حصہ بہت کم ہو جاتا تھا۔ مگر حضرت عمر رض نے یہی فیصلہ کیا اور مال کی تقسیم میں اپنے قبیلہ کو اتنے پیچھے ڈال دیا ۔ اس طرح بنی تھی یہ امت ! امت بننے کے لیے یہ ضروری ہے کہ سب کی یہ کوشش ہو کہ آپس میں جوڑ ہو پھوٹ نہ پڑے۔ حضورم کی ایک حدیث کا مضمون ہے کہ قیامت میں ایک آدمی لایا جائے گا جس نے دنیا میں نماز ، روزہ ، حج ، تبلیغ سب کچھ کیا ہوگا مگر وہ عذاب میں ڈالا جائے گا ، کیونکہ اس کی کسی بات نے امت میں تفریق ڈالی ہوگی اس سے کہا جائے گا پہلے اپنے اس ایک لفظ کی سزا بھگت لے جس کی وجہ سے امت کو نقصان پہنچا ۔ اور ایک دوسرا آدمی ہوگا جس کے پاس نماز ، روزہ ، حج وغیرہ کی بہت کمی ہوگی اور وہ خدا کے عذاب سے بہت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page