غیر مسلموں میں تبلیغ
Urdu book, p. 52
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈرتا ہوگا ، مگر اس کو بہت ثواب سے نوازا جائے گا۔ وہ خود پوچھے گا کہ یہ کرم میرے کس عمل کی وجہ سے ہے۔ اس کو بتایا جائے گا کہ تو نے فلاں موقع پر ایک بات کہی تھی جنتی جس سے امت میں پیدا ہونے والا ایک فساد رک گیا اور بجائے توڑ کے جوڑ پیدا ہو گیا۔ یہ سب تیرے اسی لفظ کا صلہ اور ثواب ہے۔ امت کے بنانے اور بگاڑنے میں ، جوڑنے اور توڑنے میں سب سے زیادہ دخل زبان کا ہوتا ہے یہ زبان دلوں کو جوڑتی بھی ہے اور پھاڑتی بھی ہے۔ زبان سے ایک بات غلط اور فساد کی نکل جاتی ہے۔ اور اس پر لاٹھی چل جاتی ہے اور پورا فساد کھڑا ہو جاتا ہے۔ اور ایک ہی بات جوڑ پیدا کر دیتی ہے اور پھٹے ہوئے دلوں کو ملا دیتی ہے۔ اس لیے سب سے زیادہ ضرورت اس کی ہے کہ زبانوں پر قابو ہو۔ اور یہ جب ہو سکتا ہے جب بندہ ہر وقت اس کا خیال رکھے کہ خدا ہر وقت اور ہر جگہ اس کے ساتھ ہے اور اس کی ہر بات کو سن رہا ہے ۔ مدینہ میں انصار کے دو قبیلے تھے اوس اور خزرج ۔ ان میں پشتوں سے عداوت اور لڑائی چلی آرہی تھی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت فرما کر مدینہ پہونچے اور انصار کو اسلام کی توفیق ملی تو حضور کی اور اسلام کی برکت سے ان کی پشتوں کی لڑائیاں ختم ہو گئیں اور اوس اور خزرج شیر و شکر ہو گئے یہ دیکھ کر یہودیوں نے اسکیم بنائی کہ کسی طرح ان کو پھر سے لڑایا جائے ۔ ایک مجلس میں جس میں دونوں قبیلوں کے آدمی موجود تھے ، ایک سازشی آدمی نے ان کی پرانی لڑائیوں سے متعلق کچھ شعر پڑھ کے اشتعال پیدا کر دیا ، پہلے تو زبانیں ایک دوسرے کے خلاف چلیں ، پھر دونوں طرف سے ہتھیار نکل آئے۔ حضور سے جاکر کسی نے کہا آپ فوراً تشریف لائے اور فرمایا کہ میرے، ہوتے ہوئے تم آپس میں خون خرابہ کروگے آپ نے بہت مختصر مگر درد سے بھرا ہوا خطبہ دیا۔ دونوں فریقوں نے محسوس کر لیا کہ ہمیں شیطان نے ورغلایا دونوں روئے اور گلے ملے اور یہ آیتیں نازل ہوئیں یایھا الذین امنوا اتقوا الله حق تقاته ولا تموتن الا وانتم مسلمون * الخ اے مسلمانو خدا سے ڈر و جیسا اس سے ڈرنا چاہیے اور مرتے دم تک پورے پورے مسلم اور خدا کے فرماں بردار بندے بنے رہو۔ جب آدمی ہر وقت خدا کا خیال رکھے گا ، اس کے قہر و عذاب سے ڈرتا رہے گا اور ہر دم اس کی تابعداری کرے گا تو شیطان بھی اسے نہیں بہکا سکے گا ۔ اور امت پھوٹ سے اور ساری خرابیوں سے محفوظ رہے گی ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader