غیر مسلموں میں تبلیغ
Urdu book, p. 59
By Maulana Wahiduddin Khan
دو دن نظام الدین میں اپر انڈیا ایکسپریس اپنی پوری رفتار سے فراٹے بھرتی چلی جارہی تھی ۔ راستہ میں دونوں طرف سرسبز کھیتوں اور ڈڈبائے ہوئے نالوں اور ندیوں کا مسلسل منظر نگاہوں کو اپنی طرف کھینچ رہا تھا ۔ مگر ٹرین کے لیے ان خوشنما مناظر میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ بلندی، پستی اور خشکی اور پانی اس کی رفتار میں کوئی فرق پیدا نہیں کرتے تھے ۔ راستہ میں چھوٹے چھوٹے اسٹیشن آتے مگر وہ ان کو چھوڑتی ہوئی اس طرح بھاگتی چلی جارہی تھی گویا اسے کہیں ٹھہرنا نہیں ہے ۔ دل نے کہا۔ حق کے مسافر کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ دنیا کے خوشنما مناظر اس کو لبھانے کے لیے سامنے آتے ہیں مگر وہ ان سے آنکھیں بند کر لیتا ہے ۔ سائے اور اقامت گاہیں اس کو ٹھہرنے اور آرام کرنے کی دعوت دیتے ہیں مگر وہ اپنی منزل کی طرف بڑھتا رہتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے مقاصد اس کا راستہ روکتے ہیں مگر وہ ہر ایک سے دامن بچاتا ہوا بڑھتا چلا جاتا ہے۔ زندگی کے نشیب و فراز اس سے ٹکراتے ہیں مگر اس کے عزم اور اس کی رفتار میں کوئی فرق نہیں آتا۔ کیونکہ حق کا مسافر ایک بے مقصد دنیا میں بھٹکے ہوئے شخص کے مانند نہیں ہے۔ بلکہ اس کے ذہن میں ایک مقصد ہے اور اس کے سامنے ایک معلوم منزل ہے۔ پھر وہ کیسے کہیں اور رک سکتا ہے کیسے دوسری چیز میں اُلجھ کر اپنا وقت ضائع کرنے کو پسند کر سکتا ہے ۔ اسے تو بڑھنا ہے اور بڑھتے ہی رہنا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے مقصد کو پالے ، یہاں تک کہ وہ اپنی منزل پر پہنچ جائے ۔ یہ ماہ اگست ۶۱۹۴۴ کی چودہ تاریخ تھی۔ دن کے دس بجے ہم اپنی منزل پر پہنچے۔ دہلی کے مشرقی کنارے پر خواجہ نظام الدین اولیاء کے مزار سے تھوڑے فاصلے پر بنگلہ والی مسجد ہماری منزل تھی جو سالہا سال سے تبلیغ و اصلاح کی مشہور تحریک کا مرکز ہے۔ کسی وقت یہ جگہ شہر سے الگ کرسی برآمدہ، کمرے، روشندان، طاقچے وغیرہ بھی اسی رویت میں شمار ہوتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader