غیر مسلموں میں تبلیغ
Urdu book, p. 60
By Maulana Wahiduddin Khan
نقل مک بالکل سنسان حالت میں تھی۔ مگر اب وہ ”بستی نظام الدین“ کے نام سے مشہور ہے جہاں اچھی خاصی آبادی ہو چکی ہے ۔ اور جو دہلی کارپوریشن کا ایک حصہ ہے ۔ جس وقت مولانا الیاس صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے یہاں کام کا آغاز کیا تو یہاں کی سنسان آبادی کی طرح وہ ایک نامانوس اور غیر مقبول آواز تھی ۔ مگر آج ایک عالم اس دعوت کی طرف متوجہ ہے ۔ جس طرح یہ آبادی اب ایک پر رونق شہر میں تبدیل ہو چکی ہے ــ نظام الدین آج ایک ملک گیر بلکہ عالم گیر تحریک کا مرکز بنا ہوا ہے ۔ اس کی مثال قلب کی سی ہے۔ جس طرح قلب سے خون چلتا ہے اور سارے جسم میں گھوم کر پھر قلب کی طرف واپس آتا ہے اسی طرح بے شمار انسان یہاں سے نکل نکل کر دنیا کے مختلف حصوں میں پھیلتے ہیں اور پھر واپس آ کر نئی قوت لیتے ہیں اور دوبارہ اپنے تبلیغی سفر کے لیے روانہ ہو جاتے ہیں ۔ یہاں ایک ایسی حرکت کے سرے ملتے ہیں جس کا آغاز تو ہے مگر جس کا کوئی اختتام نہیں ۔ میرے سامنے ایک بوڑھا شخص تھا۔ چہرے پر ہڈیاں نکلی ہوئی، حلیہ سے افلاس اور جہالت نمایاں ۔ قدیم طرز کے دو گول شیشے کپڑے اور چمڑے کی مدد سے باندھ کر دونوں کانوں میں اٹکائے گئے تھے یہ اس کی عینک تھی ۔ دوسری طرف وہ چہرے اور جسم بھی تھے جن پر مکھیاں پھسلتی ہیں اور جن کے وضع و لباس میں علم و امارت کی شان نمایاں تھی ۔ اور یہ سب لوگ یکساں توجہ اور انہماک کے ساتھ مقرر کی تقریر سن رہے تھے ۔ ایسی تقریر جو علمی تعریف کے مطابق نہ تقریر کہی جا سکتی ہے اور نہ وعظ ۔ مگر اس کے باوجود اس کے اندر جادو کی سی کشش تھی ، اور سارے لوگ بے اختیار اس کی طرف کھنچے چلے جا رہے تھے ۔ ١ - ” بنگلہ والی مسجد“ کی اس دنیا میں داخل ہونے کے بعد سب سے پہلی چیز جو آدمی کو اپنی طرف کھینچتی ہے وہ یہاں کا مجمع ہے ۔ ناظر دیکھتا ہے کہ انسانوں کا ایک ہجوم ہے جو پروانہ وار امڈ چلا آ رہا ہے ۔ اس میں جاہل بھی ہیں اور عالم بھی ۔ تہمد پوش بھی ہیں اور پتلون پوش بھی۔ موٹے بھی ہیں اور دبلے بھی۔ جوان بھی ہیں اور بوڑھے بھی۔ قریبا کے بھی ہیں اور دور کے بھی ۔ حتی کہ ملک کے باہر دوسرے دوسرے جغرافی علاقوں کے بھی ۔ جن کی صورتیں الگ ، جن کے لباس مختلف ، جن کی زبانیں ہم سے جدا۔ اور یہ سارے لوگ اس طرح آرہے ہیں اور جارہے ہیں جیسے کوئی سیلاب ہے جو بہہ رہا ہے اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader