غیر مسلموں میں تبلیغ
Urdu book, p. 61
By Maulana Wahiduddin Khan
کسی طرح ختم ہونے کا نام نہیں لیتا ۔ " آخر وہ کیا چیز ہے جو ان بے شمار انسانوں کو اس بستی کی طرف کھینچ رہی ہے؟" یہ سب سے پہلا سوال ہے جو نووارد کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے۔ مگر قبل اس کے کہ وہ کسی سے پوچھ کر اس کا جواب معلوم کرے وہ خود ہی اس سوال کا جواب پا لیتا ہے ۔ جب وہ یہاں کے پروگراموں میں شریک ہوتا ہے، یہاں کی باتوں کو سنتا ہے، یہاں کی ببللا دینے والی دعاؤں پر آمین کہتا ہے ، تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ ایک غیر معمولی تسخیر کی قوت ہے جو اس کے دل و دماغ پر قبضہ کیے جارہی ہے ۔ کوئی روحانی مقناطیس ہے جو بے پناہ کشش سے اس کو اپنی طرف کھینچے چلا جارہا ہے ۔ وہ خود اپنے ذاتی تجربے میں اس سوال کا جواب پا لیتا ہے کہ ملک کے اندر اور ملک کے باہر سے اتنے سارے لوگ کیوں پروانوں کی طرح اس بستی پر ٹوٹنے پڑ رہے ہیں ۔ کیوں یہ مسجد بے شمار انسانوں کی نقل و حرکت کا مرکز بن گئی ہے ۔ مسجد کے اوپر کے ایک کمرے میں سورہا تھا کہ دور سے آنے والی الارم کی آواز نے مجھے جگادیا۔ یہ رات کے ساڑھے تین بجے تھے ۔ اب تبلیغ کے اس مرکز میں سرگرمیوں کا وقت شروع ہو چکا تھا۔ چاروں طرف انسانوں کی ہلچل نظر آنے لگی ۔ سیکڑوں لوگوں نے اٹھ کر وضو کیا اور تہجد کی نماز میں مشغول ہو گئے ۔ نماز کے بعد کوئی دعا کر رہا ہے ، کوئی ذکر کر رہا ہے ، کوئی رو رہا ہے ، کوئی تلاوت کر رہا ہے ، کوئی اپنی اور امت کی اصلاح کی درخواست لے کر خدا کے حضور سجدہ میں پڑا ہوا ہے ۔ یہاں تک کہ " اللہ اکبر اللہ اکبر" کی آواز کے ساتھ مؤذن نے اعلان کیا کہ فجر کا وقت شروع ہو گیا ہے ۔ اب فجر کی سنتیں پڑھی گئیں اور سوا پانچ بجے فجر کی نماز ہوئی ۔ تکبیر ہوئی تو تقریباً تین سوا آدمی بیک وقت جماعت کے لیے کھڑے ہو گئے ۔ " نماز کے فوراً بعد بیان ہوگا ، سب لوگ یہیں مسجد میں ٹھہرے رہیں " جماعت سے فراغت کے بعد ایک شخص نے اعلان کیا ۔ اب تقریر شروع ہوئی ۔ موضوع تھا دین اور دنیا کا تعلق ۔ سادہ الفاظ ، بے تکلف انداز ، قریب کی آسان مثالیں ، دینی جذبہ ابھارنے والی نفسیاتی باتیں ۔ جگہ جگہ جان ڈالنے والے واقعات سے استدلال ، نہ تقریر کی خطابت ، نہ وعظ کی اگتاہٹ ۔ یہ تھا تقریر کا خلاصہ صبح کے جھپٹے میں تقریر شروع ہوئی اور اتنی دیر تک جاری رہی کہ سورج اوپر آگیا ۔ مگر تقریر میں اتنی جاد بیت تھی کہ شاید ہی کوئی شخص درمیان میں اٹھا ہو ۔ تقریر کے بعد باہر نکلنے کی دعوت دی گئی ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader