Urdu book · تبلیغی تحریک

غیر مسلموں میں تبلیغ

Urdu book, p. 73

By Maulana Wahiduddin Khan

اسی کے ساتھ خدمت، اخلاق، شرافت، سیکڑوں انسان ہر آن ان مشاغل میں مصروف رہتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ایک ایمانی پہل اور ایک اسلامی گرم بازاری ہے جو ہر وقت جاری ہے۔ ۲۔ یہ اس دنیا کی سب سے پہلی خصوصیت ہے جو ایک نووارد یہاں محسوس کرتا ہے۔ اس وقت اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ’’مرکز تبلیغ‘‘ دوسری جماعتوں اور پارٹیوں کے مراکز سے کس قدر مختلف ہے۔ تمام جماعتیں خواہ وہ دینی ہوں یا غیر دینی، بلا استثنا ان کے مراکز آج ایک ’’دفتر‘‘ میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ جماعتوں اور پارٹیوں کے مرکز میں جاکر کوئی شخص ان کی تحریک کو نہیں پاتا۔ اس کے سامنے بس ایک دفتر ہوتا ہے۔ جس کے مختلف شعبے ہیں۔ کہیں صدر کی تختی لگی ہوئی ہے کہیں سکریٹری کی، کوئی مہمان خانہ کا کمرہ ہے اور کوئی طعام خانہ کا۔ اور ان دفتروں میں جو سرگرمیاں روزانہ ہوتی ہیں وہ کیا ہیں۔ اخبارات کا مطالعہ، پارٹی کے نقطہ نظر سے ملکی حالات پر تبصرے، رجسٹروں کی خانہ پُری، رپورٹوں کی تیاری، خط و کتابت، سرکلر کی روانگی، تنظیمی مسائل پر بحثیں، لیڈروں کے استقبال کی تیاریاں، عرض وہی سب کچھ جو عام قسم کے دفتروں میں ہوتا ہے۔ وہی ان جماعتی دفاتر میں بھی روزانہ ہوتا ہے۔ یہ فرق کوئی معمولی فرق نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا فرق ہے جو نظام الدین کی اس بنگلہ والی مسجد کو مدینہ کی قدیم مسجد نبوی سے مشابہ کر دیتا ہے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے زمانے میں مسجد نبوی اسلامی تحریک کا مرکز تھی۔ مگر یہ مرکز اس قسم کی رسمی کارروائیوں کا دفتر نہیں تھا جیسے آج کل کی جماعتوں کا ہوتا ہے۔ بلکہ یہ خود اسلام اور اسلامی زندگی کا مرکز تھا۔ وہاں نماز کی اقامت، ذکر کی مجلسیں، خدائے پٹنا، اپنے دوسرے بھائیوں کی خدمت، قرآن کی تلاوت، سنت کا چرچا، اسلام کے پھیلانے کی فکریں ہوا کرتی تھیں۔ مسجد نبوی میں آکر ایک شخص ویسا ہی محسوس کرتا تھا جیسے سخت سردی یا سخت گرمی کے زمانے میں باہر کی فضا سے چل کر کوئی شخص یکایک ایئر کنڈیشنڈ عمارت میں داخل ہو جائے ۔ ابتدائی دور کی مسجد نبوی میں نہ عمارت کی شان و شوکت تھی، نہ سامان آرائش کا ہجوم، البتہ وہاں آدمی اسلام کو دیکھتا تھا، وہاں تعلق باللہ کے مناظر اس کو اپنی طرف کھینچتے تھے۔ وہاں دین کا دردڑپتا ہوا نظر آتا تھا وہاں قرآن واقع بننے کی کوشش کرتا ہوا دکھائی دیتا تھا۔ چنانچہ جو شخص مسجد نبوی کے اسلامی ماحول میں داخل ہوتا تھا وہ متاثر ہوئے بغیر باہر نہیں آتا تھا۔ بنگلہ والی مسجد کا یہ ماحول جو چوتھائی صدی سے بھی زیادہ عرصہ سے جاری ہے۔ یہ سنت نبوی کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page