غیر مسلموں میں تبلیغ
Urdu book, p. 65
By Maulana Wahiduddin Khan
میوات کے علاقہ میں مسلمانوں کی آبادی تھی ۔ مگر عالم یہ تھا کہ گوبر اور پتھر پوجتے تھے۔ سید سالار غازی کے علم کا سالانہ مظاہرہ ان کے نزدیک سب سے بڑا کام تھا۔ عمل سے لے کر وضع قطع تک کہیں اسلامیت نہیں تھی۔ ان کی اصلاح کے لیے مولانا الیاس صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے میوات کے علاقے میں مکاتب کھولے ۔ ان مکاتب کو قائم کرنے میں سخت دقتیں پیش آئیں ، کیونکہ جاہل میواتی اپنے بچے اس میں دینے کے لیے تیار نہیں تھے۔ وہ کہتے کہ ہمارا بچہ کھیت اور مویشی کے کام دیکھے گا ، پڑھ کر کیا کرے گا۔ غرض بڑی مشکلوں سے مدرسہ جاری ہوا۔ مگر جب لڑکے وہاں سے پڑھ کر نکلے تو اخلاقی اور دینی اعتبار سے وہ بھی ویسے ہی بن گئے جیسی ان کی آبادی تھی۔ حتی کہ چوروں اور ڈاکوؤں کی بستی سے آنے والے لڑکے پڑھنے کے بعد خود بھی چور اور ڈاکو بن گئے۔ اس وقت میوات کے رہنے والے مسلمان اس قدر اجڈ تھے کہ ایک بار مولانا الیاس صاحب ایک شخص کے اوپر تبلیغ کر رہے تھے۔ میواتی ان کی تبلیغ سے اس قدر خفا ہوا کہ انہیں ایک گھونسہ رسید کر دیا۔ مولانا دبے پلے کمزور آدمی، میواتی کے گھونسنے کی تاب نہ لا کر گر پڑے اور کچھ دیر غشی کی سی حالت میں پڑے رہے۔ جب ہوش آیا تو اٹھ کر میواتی کا دامن پکڑ لیا اور کہا :- ” ہم اپنا کام کر چکے، اب میری بات سنو “ یہ سن کر میواتی کا عجیب حال ہوا۔ وہ خوف سے کانپنے لگا ۔ اس نے کہا ــــــــــ مولوی، مجھے معاف کر دو، ورنہ میری بخشش نہیں ہوگی “ غرض مکاتب کے ناکام تجربہ کا مولانا الیاس صاحب پر سخت اثر ہوا۔ وہ درد و کرب سے تڑپتے اور کہتے ” ہائے اللہ میں کیا کر دوں “ یہاں تک کہ ان پر کھلا کہ موجودہ ماحول میں تعلیم و تبلیغ کا کچھ اثر نہیں ہو سکتا ۔ کیونکہ ـــ ” استاد لفظ پڑھاوے ، تربیت دے ماحول “ میواتی نے اپنے سادہ الفاظ میں کہا۔ آج کا ماحول بالکل بگڑ چکا ہے، اور جب آدمی ماحول کے اندر ہوتا ہے تو وہ ہر وقت اس کو اپنی طرف کھینچتا رہتا ہے، ایک طرف کان میں تبلیغ کی آواز جاتی ہے اور عین اسی کے ساتھ ماحول کی آواز بھی داخل ہوتی رہتی ہے ، اس لیے تعلیم و تبلیغ کا کچھ اثر نہیں ہوتا۔ پھر ماحول کہاں سے آئے۔ ظاہر ہے کہ موجودہ ماحول پر تو ہمیں قدرت نہیں کہ بٹن دبا کر اس کو بدل دیں۔ اس کا حل یہ ہے کہ مسجدوں کے اندر چھوٹے چھوٹے ماحول بنائے جائیں جن میں ایک مدت تک کے لیے وہی باتیں چلائی جائیں جو ہم پوری سوسائٹی میں چاہتے ہیں، یعنی ذکر، نماز، دعا، تلاوت ،خدمت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader