Urdu book · تبلیغی تحریک

غیر مسلموں میں تبلیغ

Urdu book, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

اور توجہ الی اللہ کا ماحول ۔ چھوٹے سے دائرہ میں ایسی فضا بنائی جائے کہ وہاں اس کے سوا کوئی اور چیز نہ ہو۔ اس کے بعد لوگوں کو ان کے ماحول سے کاٹ کر اس طرح کے ماحول میں لایا جایا جائے اور وہاں ایک مقرر مدت تک رکھ کر ان کو ایمان و اسلام کی باتیں بتائی جائیں۔ تبلیغی طریقہ کار کا خاص فلسفہ یہ ہے کہ لوگوں کو اگر ان کی کھیتیوں میں ، ان کی ملازمتوں میں ان کی تجارتوں میں اور ان کی دنیاوی مشغولیتوں میں سمجھانے کی کوشش کرو گے تو وہ سمجھ نہیں سکتے ، اس لیے انہیں ان کے مشاغل سے نکال کر مسجد میں لاڈ اور مسجد کے اندر ایک اسلامی فضا بنا کر ان کے اوپر اسلام کی تبلیغ کرو۔ اس وقت ان کا ذہن بالکل خالی ہوگا اس لیے وہ بات کو فوراً سمجھ جائیں گے۔ بستی نظام الدین میں بنگلہ والی مسجد اسی طریقہ کار کا ایک مستقل عملی مرکز ہے جہاں ہر وقت اسلامی اور تبلیغی ماحول رہتا ہے ۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں ۔ وہاں ہر آن بس ایک ہی چیز کا چرچا ہے اور وہ یہ کہ خدا سے تعلق جوڑو، کیونکہ خدا ہی سے سب کچھ ہوتا ہے ۔ کسی اور چیز سے کچھ نہیں ہوتا۔ متحرک تربیتی کیمپ تبلیغی کارکنوں کا ہر جگہ یہی کام ہے کہ وہ سفر و حضر میں اسی طرح کے ماحول وقتی طور پر بنائیں جماعتی وفود جو کثیر تعداد میں روزانہ نکلتے رہتے ہیں وہ جب کسی مقام پر پہنچتے ہیں تو ان کا پہلا کام یہ ہوتا ہے کہ مقامی طور پر گشت کر کے لوگوں کو مسجد میں آنے کی دعوت دیں۔ پھر مسجد میں جمع کر کے انہیں نماز پڑھوائی جائے ، تلاوت کرائی جائے ، سیرت پاک اور صحابہ کرام کے واقعات سنائے جائیں ، دعائیں یاد کرائی جائیں ، اعمال صالحہ کے فضائل بیان کیے جائیں اور ان کی دینی ذمہ داریاں یاد دلائی جائیں۔ انہیں دعا اور عبادت میں مشغول کیا جائے ۔ اس فضا میں کچھ وقت گزارنے کے بعد جب ان کے دل نرم ہو جائیں تو انہیں چلہ پورا کرنے کی دعوت دی جائے۔ چلہ کے لفظ سے بعض لوگوں کو توحش ہو گا۔ حالانکہ چلہ دراصل مسجد کی اس چند گھنٹہ کی دینی زندگی کی گویا تو سیح ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ چالیس دن تک اپنے دنیوی مشاغل کو چھوڑ کر مسجد د میں زندگی گزارنا ، گشت کرکے دوسرے مسلمانوں تک پہنچنا اور ان کو اسلامی زندگی کی طرف بلانا ، اسلامی فضا میں ایک عرصہ تک رہ کر دین کو اس حد تک سیکھ لینا اور پرکھ لینا کہ آدمی پختہ ہو جائے ۔ اور جب دوبارہ اپنے ماحول میں واپس آئے تو اس کا ارادہ اور شعور اس حد تک بیدار ہو چکا ہو کہ آئندہ اسلامی طرز پر زندگی گزار سکے ۔ گویا چلہ ایک قسم کا متحرک تربیتی کیمپ ہے ۔ یہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page