غیر مسلموں میں تبلیغ
Urdu book, p. 67
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک سراپا عمل ہے نہ کہ دھیان گیان قسم کی کوئی چیز۔ یہ طریق کار جو مولانا الیاس رحمتہ اللہ علیہ پر کھلا تھا۔ اس کے حیرت انگیز نتائج برآمد ہوئے ہیں، لوگ جو نہایت غلط قسم کی زندگی میں پڑے ہوئے تھے انہوں نے اس سے متاثر ہو کر اپنی زندگیاں بدل ڈالیں۔ ہزاروں ایسے لوگ جو اجتماع اور چلہ اور گشت کا مذاق اڑاتے تھے جب ان کو ان کے ماحول سے نکال کر دینی فضا میں رکھا گیا اور وہاں ان کے اوپر تبلیغ کی گئی تو وہ اس کے فریفتا ہو گئے۔ داڑھی کے بغیر نکلے اور داڑھی والے ہو کر لوٹے، سوٹ، ٹاٹی میں نکلے اور واپس آئے تو ان کا لباس کرتا پا جامہ ہو چکا تھا۔ بے نمازی، زکوۃ نہ دینے والے، لڑائی جھگڑا کرنے والے، اور بد کاریوں میں لت پت نکلے اور واپسی اس حالت میں ہوئی کہ یہ پہچاننا مشکل ہو گیا کہ یہ وہی شخص ہے۔ حتی کہ ایسی بھی مثالیں ہیں کہ شراب کی بوتلیں ساتھ لے کر نکالا گیا کیونکہ انہیں اصرار تھا کہ ہم شراب کو چھوڑ نہیں سکتے۔ مگر شراب کے ماحول کے بجاے دینی ماحول میں شب و روز گزارنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ خود اپنے ہاتھ سے انہوں نے شراب کی بوتلیں توڑ ڈالیں اور تائب ہو کر مسلمان کی سی زندگی گزارنے لگے۔ ایک کارکن نے بتایا کہ افریقہ میں جب پہلی جماعت گئی تو تبلیغ کے لوگ کرتا پا جامہ میں تھے اور وہاں کے جن لوگوں کو انہوں نے کہہ سن کر اپنے ساتھ گشت کے لیے تیار کیا تھا وہ کوٹ پتلون میں۔ بعد کو یہ لوگ متاثر ہوئے اور جماعت کے ساتھ نکل کر ہندوستان آئے مگر اس وقت ان کا حلیہ اور وضع قطع اتنی بدل چکی تھی کہ پاسپورٹ پر پہلے کی تصویر سے جب سرحد کے افسروں نے ان کا حلیہ ملایا تو وہ کہنے لگے یہ پاسپورٹ تمہارا ہے یا کسی اور کا۔ یہ تو کوٹ اور ٹاٹی کی تصویر ہے اور تم لوگ دوسرا لباس پہنے ہوئے ہو۔ ۴۔ تبلیغ کے اس کام کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس کی عمر پچاس برس سے زیادہ ہو گئی اور اس دوران میں اس کے رہنماؤں میں بار بار تبدیلی ہوئی مگر اس کے باوجود اس کا کام برابر بڑھ رہا ہے۔ یہ ایک ایسی خصوصیت ہے جو جدید تاریخ میں کسی بھی دینی یا غیر دینی جماعت کو حاصل نہیں ۔ موجودہ جماعتوں کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ابتدا میں تو اس نے انسانوں کو متاثر کرنے کا کام کیا۔ اور بہت سے اچھے اچھے ذہنوں کو کھینچنے میں کامیاب ہوئی۔ مگر کچھ ہی دن گزرنے کے بعد اس کا یہ کام رک گیا ۔ جو لوگ شروع میں آگے تھے بس انہیں پر جماعت محدود ہو کر رہ گئی۔ کسی جدید تحریک کی تاریخ یہ نہیں بتاتی کہ بعد کے مرحلے میں اس کے اندر ذہنی اضافہ کا وہ کام جاری رہا جو ابتدائی مرحلہ میں انجام پایا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader