Urdu book · تبلیغی تحریک

غیر مسلموں میں تبلیغ

Urdu book, p. 68

By Maulana Wahiduddin Khan

تھا۔ اگر چہ تحریکیں دوسرے مرحلے میں پہونچنے کے بعد بھی زندہ رہتی ہیں اور ایک لحاظ سے ان میں اضافہ بھی نظر آتا ہے ۔ مگر یہ اضافہ اس نوعیت کا نہیں ہوتا جس نوعیت کا پہلے دور میں ہوا تھا۔ بعد کے مرحلہ میں ہر تحریک اس طرح نظر آئے گی کہ اس کے افراد بے روح ہو چکے ہیں۔ کاروباری نوعیت کی چیزوں میں تو بہت اضافہ ہو رہا ہے مگر مقصدی نوعیت کی چیزوں میں کوئی اضافہ نہیں ۔ دور سے موافقت یا ہمدردی ظاہر کرنے والے بڑھ رہے ہیں اور وہ بھی اس اعلیٰ مقصد کی خاطر نہیں جو شروع میں اختیار کیا گیا تھا ، بلکہ ان کمتر درجہ کے نعروں کی بنیاد پر جن کو تحریک نے اپنے گرتے ہوئے ڈھانچہ کو سنبھالنے کے لیے بعد میں اختیار کیا تھا۔ ان مثالوں کے اندر تبلیغی تحریک کی یہ ایک منفرد خصوصیت ہے کہ آج بھی اس کے اندر انسانوں کے لیے اپیل ہے ۔ بلکہ پہلے سے زیادہ ہے ۔ یہ لوگ نہایت دلچسپی کے ساتھ اس کے پروگراموں میں شریک ہوتے ہیں ۔ نئے نئے افراد کثرت سے اس کی دعوت سے متاثر ہو رہے ہیں ، زندگیوں میں تغیر کا کام پہلے سے بھی زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ جاری ہے ۔ نئے نئے طبقات میں دعوت پھیل رہی ہے اور یہ پھیلنا اس مفہوم میں نہیں ہے کہ کسی سستے اور جذباتی اشو پر اتفاق کرنے والے بڑھ رہے ہیں ۔ بلکہ عین اسی ھٹوس اور گہرے اسلامی مفہوم میں ہے جس مفہوم میں اس کے داعی اول نے اپنے دعوتی کام کا آغاز کیا تھا ۔ اس کی وجہ جو میں سمجھ سکا ہوں وہ غالباً یہ ہے کہ عام طور پر جماعتیں یا پارٹیاں اپنے ماحول کی پیدا وار ہوتی ہیں ۔ کسی خاص حالات یا زمانے کے اندر وقت کے ذوق کے مطابق ایک تحریک اٹھتی ہے۔ اس طرح کی تحریکیں اگر چہ عام طور پر دائمی نوعیت کی اصطلاحیں استعمال کرتی ہیں اور اپنی فکر کا سرا ابدی حقائق سے ملاتی ہیں ۔ مگر حقیقہ یہ ایک زمانی چیز ہوتی ہے اور اگر اس کے اندر ابدی پیغام کی آمیزش ہو جب بھی اپنی نوعیت کے اعتبار سے وہ ابدی پیغام کا صرف وقتی ایڈیشن ہوتا ہے ۔ اس کے برعکس تبلیغ کا یہ کام فطرت کے دائمی تقاضوں کی تکمیل ہے ۔ فطرت کے وہ تقاضے جو اس کے خالق نے اول روز سے اس کے اندر رکھ دیے ہیں اور جو حالات اور زمانہ سے الگ اپنا مستقل وجود رکھتے ہیں ، بس یہی تقاضے اس تحریک تبلیغ کا موضوع ہیں۔ دین کی ابدی صداقتوں کے سوا اس تحریک کو اور کسی چیز سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ اگر اس تشریح کو صحیح مان لیا جائے تو اس میں ہمیں اس کا جواب مل جاتا ہے کہ تبلیغ اور دوسری جماعتوں میں یہ فرق کیوں پایا جاتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسری جماعتوں کی بنیاد وقتی حالات پر ہے اور تبلیغ کی بنیاد دائمی قدروں پر ۔ دوسری تحریکوں میں جو چیز اپیل پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے وہ زیادہ تر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page