غیر مسلموں میں تبلیغ
Urdu book, p. 75
By Maulana Wahiduddin Khan
باہر کا ماحول ہے اس کے برعکس "تبلیغ" میں جو چیز اپیل پیدا کرنے والی ہوتی ہے وہ خود انسان کی وہ فطرت ہے جو کبھی بدلتی نہیں، خارجی حالات تغییر پذیر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب تک یہ حالات رہتے ہیں اور انسانی ذہن ان کے مطابق سوچتا ہے، اس وقت تک ان کی بنیاد پر پیدا ہونے والی تحریکوں میں لوگوں کے لیے اپیل رہتی ہے اور وہ اس کی طرف کھنچتے ہیں مگر جب حالات بدل جاتے ہیں تو یہ اپیل بھی ختم ہو جاتی ہے اور اس کے بعد اپنے وقت کے حالات کی طرح یہ تحریک بھی محض ایک تاریخی چیز ہو کر رہ جاتی ہے اس کے برعکس تبلیغ کا یہ کام چونکہ انسان کی دائمی فطرت کے اوپر قائم ہے اس لیے اس کی اپیل بھی ختم نہیں ہوتی۔ جب تک یہ کام اخلاص کے ساتھ جاری رہے گا اس کے اندر اپیل بھی باقی رہے گی خواہ زمانہ کتنا ہی کیوں نہ بدل جائے ۔ زمانی تحریکیں زمانہ ختم ہونے کے بعد لازما معدوم نہیں ہوجاتیں ، وہ اکثر اس کے بعد بھی باقی رہتی ہیں ، مگر بعد کے زمانے میں ان کی حیثیت تحریک سے زیادہ فرقہ کی ہو جاتی ہے ۔ وہ ایک لگانہ ہو تا ہے جو محض گروہی تعصب کے سہارے اپنا وجود باقی رکھتا ہے جب کہ تحریک کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے اندر شعور ہو اور اس کے ساتھ وہ ارتقا پذیر بھی ہو۔ تحریک سے جب اس کا ابتدائی شعور رخصت ہو جائے اور جب نئے افراد کا اضافہ نہ ہو رہا ہو تو اس کے لیے تحریک کے بجائے فرقہ کا نام زیادہ صحیح ہوگا۔ اس کے برعکس وہ تحریک جو دائمی قدروں کی بنیاد پر اٹھی ہو اس میں ہمیشہ شعور اور ارتقا کی صلاحیت باقی رہتی ہے۔ زمانہ اس کو ختم نہیں کرتا۔ اور اگر کارکنوں کی غفلت سے کبھی وہ سست پڑ جائے تو دوبارہ اسے زندہ کیا جا سکتا ہے ۔ ۵- نظام الدین میں ایک شخص نے لپک کر مجھے اس طرح سلام کیا جیسے وہ میرا پرانا شناسا ہو۔ میں نے دیکھا خوبصورت داڑھی کے ساتھ ایک نوجوان چہرہ مسکرا رہا تھا۔ تعارف کے بعد میں نے پہچانا کہ یہ وہی شخص ہے جن سے تعلیم کے زمانے میں ان کے سر پرستوں کو شکایت تھی ۔ ان کے بڑے بھائی نے یہ کیا کہ علی گڑھ کی تعلیم ختم کرنے کے بعد انہیں اگلی زندگی کے آغاز سے پہلے تبلیغی جماعت کے ساتھ ایک جگہ میں بھیج دیا۔ چالیس دن جماعتوں میں رہنے کے اس پروگرام میں اب صرف چند دن باقی تھے اور اس مدت میں وہ اچھے خاصے " مسلمان " بن چکے تھے۔ نظام الدین کے اس سفر سے واپسی کے فوراً بعد مجھے چند ہفتے علی گڑھ میں قیام کرنا پڑا وہاں میں نے دیکھا کہ اسی طرح کے نوجوان سیکڑوں کی تعداد میں موجود ہیں اور یہ صرف پچھلے چند سالوں کے اندر ہوا ہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader