Urdu book · تبلیغی تحریک

غیر مسلموں میں تبلیغ

Urdu book, p. 70

By Maulana Wahiduddin Khan

علی گڑھ کے ایک تبلیغی کارکن، جو ایک شعبہ میں لکچر رہیں، انہوں نے مجھ سے بڑے جوش کے ساتھ کہا۔ ’’ہم تو جب کسی شخص کو نظام الدین لے جاتے ہیں تو اس اعتماد کے ساتھ لے جاتے ہیں کہ وہاں سے وہ خالی نہیں لوٹ سکتا۔‘‘ اور میں نے دیکھا کہ واقعات اس کے ان الفاظ کی تائید کر رہے ہیں۔ یونیورسٹی کے طلبہ جو ہمیشہ سے اپنی ’’نیچریت‘‘ اور مغرب زدگی کے لیے مشہور رہتے اور جن کی تعلیم بھی ایسی ہے جس کا دین سے کوئی تعلق نہیں، وہ جب نظام الدین جاتے ہیں اور چلوں میں نکلتے ہیں تو ایسا بدل جاتے ہیں کہ یہ تمیز کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ یونیورسٹی کے طالب علم ہیں یا کسی عربی درس گاہ کے۔ بلکہ ان میں کثیر تعداد ایسے لوگوں کی ہے جن کا اخلاق، جن کی دین داری اور جن کی خدا ترسی اس درجہ کو پہونچ گئی ہے کہ عربی مدارس کے طلبہ بھی ان پر رشک کریں۔ سیکڑوں طلبہ جن کے اندر خدا ترسی، نماز باجماعت، نوافل خدمت خلق، انفاق، دعا، ذمہ داری اور اسلامی وضع قطع کی صفات پیدا ہوگئی ہیں۔ حتی کہ وہاں ایسے مناظر نظر آتے ہیں جو عربی مدارس میں بھی مشکل سے دکھائی دیں گے۔ مثلاً امتحان کے زمانے میں اگر آپ وہاں ہوں تو دیکھیں گے کہ طلبہ جوق در جوق مسجد میں آتے ہیں۔ وضو کر کے دو رکعت صلوٰۃ الحاجۃ پڑھتے ہیں اور اس کے بعد دعا کر کے امتحان ہال میں پرچہ حل کرنے کے لیے جاتے ہیں۔ علی گڑھ میں آج ایک طرح کی دینی فضا معلوم ہوتی ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں تھی۔ صرف چند سال پہلے کی بات ہے مولانا قاری محمد طیب صاحب وہاں تقریر کرنے کے لیے تشریف لائے مگر اس وقت تک طلبہ میں دین کے استخفاف کا ایسا ذہن تھا کہ فقرے بازی اور شور وغل کی وجہ سے مولانا اپنی تقریر مکمل نہ کر سکے اور قبل از وقت اٹھ کر چلے گئے۔ اب پچھلے سال وہ دوبارہ یونیورسٹی میں آئے اور ڈھائی تین ہزار کے مجمع میں ان کی تقریر ہوئی۔ مگر سارا مجمع آخر تک بالکل ساکت و صامت بنا رہا۔ یونیورسٹی کی فضا میں یہ تبدیلی خاص طور پر تبلیغی جماعتوں کی کوششوں کا ثمرہ ہے۔ مسلم یونیورسٹی میں دینیات کا مضمون تمام طلبہ کے لیے لازمی ہے۔ ہر ہاسٹل میں باقاعدہ مسجد اور امام اور موذن کا انتظام ہے، دینی امور کی نگرانی کے لیے ایک مستقل ناظم کا عہدہ ہے اور اس کے علاوہ وہ سب کچھ جس کو یونیورسٹی کا اسلامی کردار‘‘ کہا جاتا ہے۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلم یونیورسٹی کی ساری تاریخ میں کبھی دین کا وہ وقار و احترام پیدا نہیں ہوا جو آج کل وہاں دکھائی دیتا ہے۔ یہ ہے اس تحریک کا نتیجہ جو محدود اور دتیانوسی تحریک سمجھی جاتی ہے اور اس مقام پر جو ہندوستان میں مغربیت کا سب سے بڑا گڑھ ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page