Urdu book · تبلیغی تحریک

غیر مسلموں میں تبلیغ

Urdu book, p. 71

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ یہ اس عظیم مسئلہ کا ایک نہایت آسان حل ہے جو ہماری ملت کو عرصہ سے درپیش ہے مگر ہمارے رہنما جس کا حل نکالنے میں ناکام رہے ہیں، یعنی جدید سیکولر تعلیم کے بعد نوجوانوں کو اس کے برے اثرات سے بچانا۔ موجودہ زمانے میں مغربی طرز کی سیکولر تعلیم زندگی کی ایک ناگزیر ضرورت بن گئی ہے۔ اس تعلیم کا تعلق نہ صرف معاش سے بہت گہرا ہو چکا ہے، بلکہ قرآن کے الفاظ میں وہ وقت کی ” قوت ہے اور دنیا میں باوقار اور مستحکم قومی زندگی کی تعمیر کے لیے اس کا حصول ناگزیر ہے۔ مگر اس تعلیم کے ساتھ کچھ ایسی روایات شامل ہو گئی ہیں اور اس کا ایسا ماحول بن گیا ہے کہ اس تعلیم کے بعد دہریت ورنہ کم از کم بے عملی کا شکار ہو جانا عام ہو گیا ہے۔ پھر جب اس تعلیم کے لازمی نتیجہ کے طور پر خوشحالی اور مادی فراوانی حاصل ہوتی ہے، اس وقت تو یہ سیکولر تعلیم روایتی دیوارِ فقہ کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ جو اس پر چڑھتا ہے وہ دین سے بے تعلق ہو کر بے ساختہ دوسری طرف کو پڑتا ہے مگر علی گڑھ اور نظام الدین میں کالجوں کے طلبہ کا جو منظر میں نے دیکھا وہ ہماری رہنمائی اس طرف کرتا ہے کہ ہم ایک اور دیوارِ فقہ تعمیر کر سکتے ہیں جب کہ ہمارے نوجوان سیکولر تعلیم کی دیوار پر چڑھھیں اور اسلام کی سرزمین میں کودیں۔ نظام البین اور تبلیغی تحریک کی شکل میں یہ دوسری قسم کی دیوارِ فقہ گویا تعمیر ہو چکی ہے ۔ اب ہر شخص جو اپنے بچوں کو جدید تعلیم دلانا چاہتا ہے۔ اسی کے ساتھ اسے یہ بھی طے کر لینا چاہیے کہ وہ اپنے بچے کو دورانِ تعلیم میں چھٹیوں کے زمانے میں کبھی کبھی نظام الدین بھیجتا رہے گا۔ اور ختم تعلیم پر عملی زندگی شروع کرنے سے پہلے اس کو ایک چلہ بھی کرائے گا۔ تعلیم کے ساتھ یہ اضافہ انشاء اللہ اس کی دینی زندگی کی ضمانت ہوگی۔ بغیر اس کے اس کی تعلیم کو کسی قسم کا نقصان نہ ہو پہنچے۔ میں نے علی گڑھ میں دیکھا کہ تبلیغی نوجوان نہایت دل جمعی کے ساتھ اپنی تعلیمی زندگی میں مشغول رہتے ہیں۔ اور بہتر نمبروں سے پاس ہوتے ہیں ۔ اصل میں دین کا جزو جب زندگی میں داخل ہو جاتا ہے تو آدمی کے اندر ایک طرح کی ذہنی تنظیم پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ سنجیدہ اور باشعور ہو جاتا ہے۔ اس کے اوقات بہت سے فضول کاموں سے بچ جاتے ہیں۔ وہ ایک با مقصد نقطہ نظر کا حامل ہو جاتا ہے۔ ان چیزوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کو زیادہ احساس ذمہ داری اور زیادہ با قاعدگی سے گزارنے لگتا ہے۔ اس اضافہ کے ساتھ کہ ہر معاملے میں اسے اللہ کی یاد بھی آتی رہتی ہے ۔ اور وہ خدا کی اطاعت کا پابند ہو کر اپنے سارے کام انجام دیتا ہے۔ جو زندگی میں برکت کا نور پیدا کرتا ہے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page