Urdu book · تبلیغی تحریک

غیر مسلموں میں تبلیغ

Urdu book, p. 72

By Maulana Wahiduddin Khan

تبلیغی کام عرب ممالک سے لے کر یورپ اور امریکہ تک ہو رہا ہے۔ کثرت سے تبلیغی وفود باہر جاتے ہیں اور باہر سے ہندوستان آتے ہیں۔ اور یہاں جماعتوں میں رہ کر پھر واپس جاتے ہیں۔ اکثر بیرونی مقامات پر باقاعدہ تبلیغ کا مرکز ہے اور اس کا نظم قائم ہے۔ اور تبلیغ کے مسلسل حلقے وجود میں آگئے ہیں— یہ صورت حال ہم کو ایک مزید موقع فراہم کرتی ہے۔ وہ یہ کہ طلبہ کو باہر بھیجنا ہو تو ان کو کسی تبلیغی وفد کے ساتھ بھیجا جائے۔ اور اگر بروقت یہ ممکن نہ ہو تو یہ کوشش کی جائے کہ طالب علم جس ملک میں جائے وہاں حتی الامکان وہ وہاں کے تبلیغی حلقہ سے قریب رہے۔ اس طرح کی سیکڑوں کی مثالیں وجود میں آچکی ہیں اور اس طریقہ کو اختیار کر کے نوجوانوں کے بیرونی تعلیمی سفر کو بڑی حد تک خطرات سے محفوظ کیا جاسکتا ہے۔ آج مسلم قوم سیکورتی تعلیم کے میدان میں پوری طرح کو ڈپڑی ہے۔ ہمارے تمام بہترین نوجوان سیکولر اداروں میں تعلیم پارہے ہیں۔ اگر اس کے ساتھ مندرجہ بالا پروگرام کو بھی شامل کر لیا جائے تو تعلیم یا آئندہ معاشی مستقبل میں کسی قسم کا نقصان کیے بغیر ایک عظیم فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ یعنی ہمارے ذہنوں کا نہ صرف ضائع ہونے سے بچنا بلکہ اپنی زندگی کی تعمیر کے ساتھ ملک کے اندر اور ملک کے باہر تبلیغ دین کا زبردست ذریعہ بن جانا۔ اگر اس پر عمل درآمد ہو تو انشاء اللہ وہی واقعہ دوبارہ ظہور میں آسکتا ہے جو عرب کے سلمان تاجروں کے دنیا بھر میں پھیلنے سے ہوا تھا۔ - تبلیغ کے اس کام میں زیادہ تر شخصی طور پر بات پہونچانے پر بھروسہ کیا جارہاہے۔ یعنی گفتگو، تقریر، ملاقاتوں اور سفروں کے ذریعے براہ راست طور سے اپنے خیالات دوسروں کو منتقل کرنا۔ اس طریقہ میں پریس کا حصہ صرف اس قدر ہے کہ فضائل اعمال اور واقعات صحابہ کی کچھ کتابیں لکھ کر چھپوالی گئی ہیں۔ جو تعلیم کے حلقوں میں پڑھ کر سنانے کے لیے استعمال ہوتی ہیں اور جن سے کارکنوں کو اپنی تبلیغ کے لیے مواد ملتا ہے۔ جب کہ حقیقتہ پریس کے جدید تصور کے مطابق یہ صفر کے برابر ہے۔ تبلیغ کی طرف سے کبھی کوئی رپورٹ شائع نہیں کی جاتی، حالانکہ رپورٹ کے لیے ان کے یہاں اتنا زیادہ اور کبھی ختم نہ ہونے مواد ہے کہ شاید ہی کسی جماعت کے پاس اتنا مواد ہو۔ ریلیف ورک اور ملی خدمات کے سلسلے میں بھی ان کے یہاں کہنے کی باتوں کی کمی نہیں۔ مگر کبھی اس قسم کی کوئی چیز اخباروں میں دیکھی نہیں گئی ہر سال اتنے بڑے بڑے اجتماعات ہوتے ہیں کہ بلا مبالغہ ہندوستان یا پاکستان میں کسی بھی دینی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page