Urdu book · تبلیغی تحریک

غیر مسلموں میں تبلیغ

Urdu book, p. 73

By Maulana Wahiduddin Khan

جماعت کا اتنا بڑا اجتماع نہیں ہوتا ، مگر ان کے لیے ایک بھی اشتہار یا ہینڈ بل کبھی شائع کیا گیا اور نہ لاؤڈ اسپیکر سے اعلان کیا گیا ۔ مستقل طور پر ہزاروں انسان تبلیغ کے کام میں شب و روز متحرک رہتے ہیں ، مگر ان لوگوں کو جمع کرنے ، انہیں متحرک کرنے اور انہیں ہدایات دینے کے لیے کوئی رسالہ یا اخبار اس کی طرف سے جاری نہیں کیا گیا ۔ اس بارے میں تبلیغ کے لوگ اس قدر شدید ہیں کہ بعض بزرگوں نے اپنے طور پر تبلیغ کے کارکنوں کو لٹریچر فراہم کرنے کے لیے کتا بیں لکھیں مگر وہ تبلیغ کے حلقہ میں پھیل نہ سکیں ، حتیٰ کہ مجھے ذاتی طور پر معلوم ہے کہ ایک اجتماع کے موقع پر ایک بار مقامی اخبار نے اپنے طور پر اجتماع کی خبر شائع کر دی تو ایڈیٹر سے مل کر اس کی شکایت کی گئی ۔ یہ شدت بہت سے لوگوں کو پسند نہیں آئے گی ۔ مگر اس شدت نے تبلیغ کے اس کام میں ایک خاص قدر پیدا کر دی ہے جو اس وقت کسی بھی تحریک میں موجود نہیں ہے اور وہ ہے تاثیر کی قوت یہ ایک واقعہ ہے کہ آدمی جب بذات خود اپنے عقیدہ کی تبلیغ کر رہا ہو تو اس کی شخصیت کا پورا زور اس کی تبلیغ کے اندر آجاتا ہے ۔ اس کے الفاظ میں اس کے کردار کی شیرینی ، اس کے لہجے میں اس کے قلب کا سوز و گداز ، اس کے انداز میں اس کے یقین کی جھلک اور اس کے خیالات میں ایک جیتی جاگتی زندگی کا مجسم وزن شامل ہو جاتا ہے ، نیز اگر یہ گفتگو ، ماحول کے اندر ہو رہی ہو تو ماحول اس کے وزن کے اضافہ میں مزید شریک ہو جاتا ہے ، ریڈیو سے کمتری سننے اور کرکٹ میچ کے سامنے موجود ہونے میں جو فرق ہے ، وہی فرق مزید شدت کے ساتھ زبانی تبلیغ اور کتابی تبلیغ میں پایا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ زبانی تبلیغ میں اور بھی بہت سے فائدے ہیں ۔ مثلاً اگر دوران تبلیغ میں ضرورت محسوس ہو تو طریق تبلیغ میں بروقت تبدیلی کی جاسکتی ہے جب کہ کتاب یا رسالہ یہ کام انجام نہیں دے سکتا۔ نظام الدین کی ایک تقریر میں یہ واقعہ بتایا گیا کہ ایک جگہ مداری بندر نچا رہا تھا ، تبلیغ کے لوگوں کو خیال ہوا کہ اس کو نماز پڑھانی چاہیے ۔ مدرسہ کے کچھ معلمین اس پر تبلیغ کے لیے بھیجے گئے مگر وہ ناکام واپس آئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بہت کچھ سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ نہیں مانتا تو ہم کیا کریں ۔ ما علينا الا البلاغ ۔ اس کے بعد تین ایسے آدمی اس کے بعد بھیجے گئے جو ذہنی اور معاشرتی اعتبار سے مداری ہی کی سطح کے تھے ۔ انہوں نے کہا ۔ " میاں بندر نچاکر زندگی خراب کر رہے ہو ، آخرت میں تم کو خدا کے فرشتے اسی طرح بچائیں گے " یہ جملہ مداری کو لگ گیا ۔ تھوڑی سی گفتگو کے بعد وہ ان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page