Urdu book · تبلیغی تحریک

غیر مسلموں میں تبلیغ

Urdu book, p. 72

By Maulana Wahiduddin Khan

لوگوں کے ساتھ ہو یا اور مسجد میں پہونچ کر بندربندیا کو باہر باندھا اور خود اندر جا کر نماز پڑھی۔ اسی طرح زبانی مبلغ کو یہ موقع حاصل رہتا ہے کہ اگر مخاطب بات نہ سمجھ رہا ہو تو بروقت اس کی ایسی عملی وضاحت کر دے کہ اس کے لیے سمجھنا آسان ہو جائے ۔ ایک صاحب جو تبلیغ کے سلسلے میں عرب گئے تھے انہوں نے اپنی تقریر میں بتایا کہ عرب علماء کو جب انہوں نے تبلیغی کام میں شرکت کی دعوت دی تو انہوں نے کہا کہ یہ قرآن اترنے کی زمین اور رسول کی بعثت کی جگہ ہے۔ یہاں تو سارے لوگ دین سے واقف ہیں۔ یہاں تبلیغ کی کیا ضرورت ۔ اس کے بعد ان سے کہا گیا اچھا ہمارے ساتھ چلے جئے اور چل کر دیکھیئے کہ آپ کے عوام کی کیا حالت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہیں کے ایک شخص کو ہم نے پکڑا اور اس سے کہا کہ قتل اعوذ برب الفلق پڑھ کر سناؤ، تو عرب کے اس مسلمان شہری نے کہا "1 اعوذ برب الفلق " (قل کے بغیر ) یہ کہتے تھے قل اعوذ برب الفلق تو اس کو سن کر عربی کہتا تھا اعوذ برب الفلق اصل میں وہ نہ تو یہ جانتا تھا کہ یہ قرآن کی کوئی سورہ ہے اور نہ اسے سورہ یاد ہی تھی ۔ اس لیے " قل " کو " پڑھو " کے معنی میں لے کر اس کے آگے کے الفاظ " اعوذ برب الفلق " اپنی زبان سے ادا کر دیتا تھا۔ اسی طرح کئی بار ہوا یہاں تک کہ تبلیغی کارکن نے کہا " قل قل اعوذ برب الفلق " تب جاکر اس نے سورہ فلق کو اپنی زبان سے دہرایا۔ اسی طرح طائف کے کچھ لوگوں سے سورہ فاتحہ پڑھنے کے لیے کہا گیا تو صرف سورہ فاتحہ میں ایک درجن غلطیاں تھیں ۔ یہ دیکھ کر عرب کے عالم رو پڑے اور انہوں نے کہا " ہم نہیں جانتے تھے کہ ہمارے عوام علم دین سے اتنے دور ہیں" پھر زبانی طور پر اور گھوم پھر کر بات پہونچانے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مخاطب سے ارتباط اور اختلاط داعی کے ذہن میں نئے نئے مضامین لانے کا سبب بنتا ہے ۔ بات کو موثر بنانے کے لیے نئی نئی مثالیں ملتی ہیں اور گفتگو زیادہ سے زیادہ سادہ اور حقیقی ہو کر مخاطب کے ذہن سے قریب ہوئی چلی جاتی ہے جب کہ تصنیف میں ایسا نہیں ہو سکتا ۔ تبلیغ کے لوگوں کی باتوں اور تقریروں میں عام طور پر بڑی سادگی اور بے ساختگی ہوتی ہے اس کی وجہ غالباً یہی ہے کہ انہوں نے تحریر کے بجائے گفتگو اور تقریر کو اپنا ذریعہ بنایا ہے۔ اس طرح کے اور بہت سے فائدے ہیں جو اس طریق تبلیغ سے حاصل ہوتے ہیں ۔ ۷ امیر تبلیغ نے دعا کی تو ان کی دعا میں یہ فقرہ بھی تھا۔ " خدایا اس نقل و حرکت کو دین کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page