Urdu book · تبلیغی تحریک

غیر مسلموں میں تبلیغ

Urdu book, p. 75

By Maulana Wahiduddin Khan

تمام شعبوں کو زندہ کرنے کا ذریعہ بنا۔ یہ فقرہ اس واقعہ کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ کام محض کلمہ و نماز کی تبلیغ کرنے کا نام نہیں ہے، بلکہ ان کی نگاہ پورے دین پر ہے اور وہ پورے دین کو زندہ کرنا چاہتے ہیں ۔ اس معاملہ میں تبلیغ اور دوسرے لوگوں میں جو فرق ہے وہ اصلاً طریقِ کار کا فرق ہے نہ کہ اس بات کا فرق کہ دوسرے لوگ کسی چیز کو دین کا جز نہ سمجھتے ہیں اور یہ حضرات اس کو دین کا جز نہیں سمجھتے یا اس کے احیا کو اپنی فہرست سے خارج قرار دیے ہوئے ہیں۔ تبلیغ کو لوگ کلمہ و نماز کی تحریک سمجھتے ہیں۔ زیادہ صحیح لفظوں میں وہ یقین پیدا کرنے کی تحریک ہے ۔ وہ یقین جس کا دوسرا نام ایمان ہے۔ غیبی حقائق پر ایمان ، خدا پر ایمان ، چنانچہ مولانا الیاس صاحب رحمتہ اللہ علیہ تبلیغ کو "تحریک الایمان " کہا کرتے تھے ۔ ان حضرات کا کہنا ہے کہ دنیا میں جن طریقوں کا چلن ہے اور جن سے بظاہر کام ہوتا ہوا نظر آتا ہے ، وہ نتیجہ پیدا کرنے کے لیے بذات خود مؤثر نہیں ہیں، بلکہ مؤثر وہ ذات ہے جو ان شکلوں کے پیچھے کام کر رہی ہے۔ مگر عام طور سے لوگ شکلوں ہی کو اصل سمجھ لیتے ہیں۔ ایک مقرر کے الفاظ میں" کائنات کی شکلوں کو تو نہیں چھوڑتا ہے البتہ کائنات کی شکلوں پر یقین کو چھوڑنا ہے، وہ اسباب و وسائل کے اشتعال" کی نفی نہیں کرتے۔ مگر اسباب و وسائل پر " آٹکال" کی نفی کرتے ہیں ۔ ان کی دعوت یہ ہے کہ " خدا سب کچھ کے بغیر سب کچھ کر سکتے ہیں، سب کچھ خدا کے بغیر کچھ نہیں کر سکتے کائنات کی ساری شکلوں کے یقین کو دل سے نکالو، اس کے بعد ہی عمل میں طاقت آئے گی گویا تبلیغی جماعت اور دوسری جماعتوں میں جو فرق ہے وہ دین کے محدود تصور یا دین کے وسیع تصور کا فرق نہیں ہے بلکہ اس بات کا فرق ہے کہ وہ کون سا میدان ہے جہاں دین کے احیا واقامت کے لیے محنت کی جائے ۔ بہت سے لوگ پارلیمنٹ ہاوس یا پریڈ گراونڈ یا الیکشن کے موسم اور اس طرح کی دوسری چیزوں کو محنت کا میدان سمجھتے ہیں۔ اس کے برعکس تبلیغ والوں کے نزدیک خدا کی کارفرمایوں پر یقین پیدا کرنا اور اس سے نفرت کا طالب ہونا مومن کی محنت کا اصل میدان ہے ۔ خدا پر محنت کر کے آدمی سب کچھ پا لیتا ہے کیونکہ ساری چیزوں کا سیر اخذ اس کے ہاتھ میں ہے اور وہی جس کے لیے چاہتا ہے کسی چیز کا فیصلہ کرتا ہے " تکوینیات تابع میں تشریعیات کے۔ اگر ہم تشریعی قوانین کے پابند ہوں گے تو تکوینی نظام ہمارے ساتھ معاون ہوگا ، قوم بسانے نہِ زراعت پر قوم شعیب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page