Urdu book · تبلیغی تحریک

غیر مسلموں میں تبلیغ

Urdu book, p. 79

By Maulana Wahiduddin Khan

نے صنعت و تجارت پر، فرعون نے ملک پر، قارون نے مال پر محنت کی مگر سب ناکام ہوئے۔ صحابہ نے ایمان اور نماز پر محنت کی، ہر چیز کے مالک ہو گئے۔ کامیابی و ناکامی کی بنیاد انسان کے اندر قائم ہوتی ہے، باہر کی شکلوں میں قائم نہیں ہوتی۔“ سعد بن ابی وقاص نے خواب دیکھا کہ پانی کے اوپر چل رہا ہوں، اس کے بعد گھوڑا دریا میں ڈال دیا۔ ابوموسیٰ اشعری اور بارہ ہزار لشکر دریا کے پار اتر گئے یہ غیبی نظام پر یقین کا نتیجہ تھا۔ ہم مشاہدہ والے نظام پر یقین رکھتے ہیں؛ یہ یقین جب مومن کے دل میں پیدا ہو جائے تو نہ صرف بازار اور کارخانے اور حکومت اس کے لیے مسخر کر دی جاتی ہیں بلکہ ہوا پر اس کا حکم چلتا ہے (جیسے حضرت عمر کی آواز مدینہ سے جاکے ایران میں نہاوند پہاڑیوں میں سنائی دی) جانور اور صحرا و بیابان اس کے تابع ہو جاتے ہیں۔ (جیسا کہ صحابہ نے ایک بار جنگل کے جانوروں کو پکار کر کہا اور وہ جنگل سے نکل گئے سمندروں اور دریاؤں کو اس کے لیے مسخر کیا جاتا ہے جیسا کہ صحابہ کی فوج نے گھوڑے اور گدھوں اور اونٹوں کے ساتھ دریا کو پار کیا تھا) تبلیغی جماعت کا یہ نظریہ ہے کہ خدا مسبب الاسباب ہے۔ وہی تقدیر بناتا ہے، وہی رزق دیتا ہے، حکومت کا ایثار اور نزع (عطا کرنا اور چھین لینا) اسی کے اختیار میں ہے، عرض ہر واقعہ جو دنیا میں ہوتا ہے اس کے پیچھے خدا کی ہستی کارفرما ہوتی ہے۔ پھر کسی مقصد کے حصول کے لیے خدا کے سوا اور کہیں محنت کرنا ایسا ہی ہے جیسے کمرہ روشن کرنے کے لیے سوئچ بورڈ پر ہاتھ پہونچانے کے بجائے بلب کو پکڑ کر اس سے منت سماجت کی جائے۔ اب چونکہ پورے دین کا بروئے کار آنا اور اہل ایمان کا غلبہ و سربلندی جن اسباب سے بندھی ہوئی ہے اس کا سرا بھی خدا ہی کے ہاتھ میں ہے۔ اس لیے اس مقصد کے حصول کا بھی یہی طریقہ ہے کہ خدا کو راضی کرکے اس معاملے میں اس کی نفرت کا استحقاق پیدا کیا جائے ’’ حالات عالم اس وقت بدلیں گے جب لوگوں میں دین آئے گا۔ اس کے بغیر حالات عالم بدل نہیں سکتے۔“ ۸۔ تبلیغ کے اس کام کو ایک اور موقع ( ایڈوانٹیج ) یہ حاصل ہے کہ اس کی تبلیغ کا تمام تر انحصار وجدانیات پر ہے نہ کہ عقلیات پر۔ دعوت کے دو طریقے ہو سکتے ہیں۔ ایک ہے ذہن کی راہ سے مخاطب کے اندر گھسنا، دوسرے وجدان واحساس کی راہ سے گھسنا۔ پہلی صورت میں عقلی اور منطقی طور پر بات کو ثابت کرکے اس کو مخاطب کے لیے قابل قبول بنایا جاتا ہے۔ دوسری صورت میں جذبات

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page