غیر مسلموں میں تبلیغ
Urdu book, p. 77
By Maulana Wahiduddin Khan
کو ابھار کر مخاطب کو اس طرف لے جانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ جو لوگ فلسفیانہ افکار سے آشنا ہیں وہ سمجھ سکتے ہیں کہ پہلا راستہ کس قدر نازک اور مشکل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خالص عقلی اور منطقی طور پر کسی نقطہ نظر کو ثابت کرنا بے حد مشکل بلکہ بہت سے لوگوں کے نزدیک ، کم از کم اب تک کے علمی ارتقاء کے مطابق نامنکن ہے ، حتی کہ موجودہ عقلی زمانے میں بھی۔ اگر اس نوعیت کی کسی تحریک کو کامیابی ہوئی ہے تو وہ اس کے علمی استدلال کی بنا پر نہیں بلکہ زیادہ تر اس بنا پر کہ اس کے ساتھ اتفاق سے جذباتی پہلو بھی شامل تھا۔ یہاں اشتراکیت ، جمہوریت اور ارتقاء کے نظریات کو مثال میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ اشتراکیت ابھی تک خالص علمی اعتبار سے ثابت شدہ نہیں ۔ جمہوریت پر علمی اعتبار سے ایسے کثیر اعتراضات کئے گئے ہیں کہ اس کے حامی ابھی تک اس کا جواب فراہم نہیں کر سکے ۔ حیاتیاتی ارتقاء کا نظریہ علمی اعتبار سے اپنے اندر اس قدر خلاء رکھتا ہے کہ اس کو نظریہ کے بجائے اعتقاد کہنا زیادہ صحیح ہوگا۔ ان نظریات کی کامیابی کا لازان ان کی عقلی و منطقی بنیادوں میں نہیں بلکہ اس جذباتی فضا میں ہے جو اس طرح کے کسی تصور کو قبول کرنے کے لیے پہلے سے آمادہ تھی ۔ اس اضافہ سے میرا مقصود صرف یہ واضح کرنا ہے کہ تبلیغ والوں نے جو طریقہ اختیار کیا ہے وہ عملی طور پر ان لوگوں سے زیادہ مفید اور موثر ہے جو عقل و منطق کی راہ سے دین کا اثبات کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔ خالص عقل کی راہ سے ثابت کرنے کی کوشش در اصل ایک ایسے عنقا کو پکڑنے کی کوشش ہے جو ابھی تک دریافت نہیں ہوئی۔ مگر دوسری ایک چیز اور ہے جو آج بھی موجود ہے ۔ اور وہ ہے فطرت اور روایت ۔ اور میں مبالغہ نہیں کروں گا اگر میں کہوں کہ آج بھی ۹۹ فیصد لوگوں کی شخصیت حقیقتاً فطرت اور روایت ہی کے تحت بنی ہے ۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے دین فطرت پر پیدا کیا ہے ۔ اور یہ فطرت لازمی طور پر ہر ایک کے ساتھ لگی ہوئی ہے ۔ مگر جو لوگ مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے ہیں ان کے ساتھ فطرت کے علاوہ ایک اور موافق عنصر بھی شامل ہے ، اور وہ ہے روایت ، تاریخی اور نسلی اثرات ، خاندان اور ماحول کی تربیت اور بہت سے لوگوں کے لیے ان کی تعلیم ، کم از کم ابتدائی تعلیم ، آج بھی لاشعور کی سطح پر انہیں مسلمان بنائے ہوئے ہے ، وہ بظاہر خواہ بے دین نظر آتے ہوں، مگر فطرت اور <<

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader