Urdu book · تبلیغی تحریک

غیر مسلموں میں تبلیغ

Urdu book, p. 79

By Maulana Wahiduddin Khan

روایت نے مل کر ان کا جو اندرونی سا نچہ بنایا ہے وہ تقریباً ہر ایک کا اسلامی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تبلیغ کے لوگ جب جذباتی باتیں کرتے ہیں تو سننے والوں کا ذہن جاگ اٹھتا ہے ، جب وہ جنت اور جہنم کی تفصیلات بتاتے ہیں تو ان کے دل دہلنے لگتے ہیں، جب وہ دعاؤں کے ذریعہ اندرونی احساسات کو چھیڑتے ہیں تو بڑے بڑے ”بے دینوں“ کے آنکھ سے بھی آنسو نکل آتے ہیں۔ یہ باتیں خواہ عقل کے اعتبار سے زیادہ طاقت ور نہ ہوں مگر کم از کم اب تک کے انسانوں کے لیے ان کے اندرایک وجدانی اپیل ہے۔ اس طرح کی آوازوں کے سائے میں جب آدمی کچھ دن زندگی گزارتا ہے تو اس کا شعور زندہ ہو کر اس کی شخصیت پر چھایا جاتا ہے اور اس کو دوبارہ ”مسلمان “ بنا دیتا ہے — تبلیغ والوں کی کامیابی کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ انہوں نے عقلی عقا کو پکڑنے کی کوشش نہیں کی۔ بلکہ موجودہ جذباتی بنیاد، بظاہر غیر منطقی بنیاد، کو استعمال کیا۔ اور تجربہ بتاتا ہے کہ اس میں وہ پوری طرح کامیاب رہے۔ ٩۔ اب گفتگو ایک ایسے مقام پر پہنچ گئی ہے، جہاں ہم اپنی آخری بات کہہ سکتے ہیں۔ ” جماعت تبلیغ جو کچھ کہہ رہی ہے کیا یہی دین کا صحیح اور مکمل کام ہے؟ یہ سوال ہم میں سے اکثر لوگوں کو پریشان کرتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہم ایک ایسا جواب پا سکتے ہیں جس میں تبلیغ کی بھی پوری اہمیت تسلیم کی گئی ہو اور اسی کے ساتھ ان لوگوں کی ذہنی تسکین بھی اس کے اندر موجود ہو جو تبلیغ کے باہر بھی کچھ کرنے کا کام سمجھتے ہیں۔ مگر ان کو فکری طور پر اس طرح مربوط نہیں کر پاتے کہ دونوں کو ان کی واقعی جگہ دیتے ہوئے دونوں کے تقاضے پورے ہو سکتے ہوں۔ قرآن و سنت کے مطالعے سے دین کا جو مطلب میں سمجھا ہوں وہ یہ ہے کہ دین کے تقاضے دو قسم سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک تقاضا تو وہ ہے جو دین کی اصل اور اس کی روح ہے۔ یہ ہے اللہ کی معرفت اس سے خشیت و محبت کا تعلق، اس کے اوپر اعتماد، اور پھر اس طرح مومن و قانت بن کر خدا کی عبادت اور معاملات زندگی میں اس کی تابعداری ۔ دوسرا تقاضا وہ ہے جو مادی دنیا اور دین کے تصادم سے پیدا ہوتا ہے۔ دین کو فکری اور عملی طور پر غالب و سر بلند رکھنے کے لیے مختلف صور میں پیش آتی ہیں اور موقع کے اعتبار سے ہر جگہ مومن کو نمٹنا پڑتا ہے — کہیں رکاز سے گشتی لڑنی ہوتی ہے کہیں حسان بن ثابت کو حکم دیا جاتا ہے کہ نظم سنائیں، کہیں وقت کے عقلا کو مطمئن کرنے کے لیے حجت ابراہیمی ظہور میں آتی ہے، کہیں بدر و حنین کے معرکے پیش آتے ہیں۔ کہیں غیر مسلموں سے معاہدہ کیا،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page