غیر مسلموں میں تبلیغ
Urdu book, p. 79
By Maulana Wahiduddin Khan
جاتا ہے ، وغیرہ وغیرہ ۔ جہاں تک پہلے تقاضے کا تعلق ہے ، وہ دین کی اصل ہے اور دائمی طور پر دین کے مطلوب کی حیثیت رکھتا ہے ۔ مگر دوسری چیز کی یہ حیثیت نہیں۔ وہ دین کا اضافی جزو رہے نہ کہ حقیقی۔ حالات جس وقت اس طرح کے کسی تقاضے کو بروئے کار لچے ہوں اس وقت تو اضافی جزو بھی عملی طور پر حقیقی جزو کی طرح مطلوب ہو جاتا ہے ۔ مگر جب حالات نے اس کی ضرورت نہ پیدا کی ہو، اس وقت مومن کے اوپر اس سلسلے میں کوئی ذمہ داری نہیں ہوتی ۔ اگر اس تشریح کو مان لیا جائے تو میرا خیال ہے کہ ہمارے دینی وعلی کاموں میں وہ ربط اور وہ منصوبہ بندی وجود میں آسکتی ہے جس کے ہم سب لوگ دل سے متمنی ہیں مگر اس کے باوجود وہ ہمارے اندر پیدا نہیں ہوتی۔ جہاں تک تبلیغ کے کام کا تعلق ہے اس کے کارکنوں کو بھی اور دوسرے لوگوں کو بھی اسے یہ حیثیت دینی چاہیے کہ وہ حقیقت دین کو زندہ کرنے کی کوشش ہے ۔ یہ بات میں تبلیغ کی اصل دعوت کے اعتبار سے کہہ رہا ہوں نہ کہ اس کے مخصوص طریقہ کار کے اعتبار سے ۔ کیونکہ طریقہ کار خواہ وہ کسی بھی جماعت یا تحریک کا ہو، ہمیشہ اضافی ہوتا ہے ، تبلیغی کارکن اپنے کام کو صرف اسی ایک کام تک محدود رکھیں ۔ اور دوسری طرف پوری امت حقیقت دین پیدا کرنے کے لیے اس کے اوپر اعتماد کرے ۔ مگر جیسا کہ میں نے کہا تبلیغ کی ساری اہمیت تسلیم کرنے کے بعد بھی دین کے لیے کچھ اور کرنے کی ضرورت باقی رہتی ہے ، اس دوسرے میدان میں امت کے دوسرے موزوں افراد کو جد و جہد کرنی چاہیے اور خود تبلیغ والوں کو اخلاص کی شرط کے ساتھ ان کی کوششوں کو تسلیم کرنا چاہیے اور انفرادی طور پر اس میں انہیں حصہ بھی لینا چاہیے ۔ مثال کے طور پر بیسویں صدی کے نصف آخر میں ہم اس نوعیت کے جن مسائل سے دوچار ہیں ان میں سے چند یہ ہیں ۔ مغربی افکار کے حملے کے مقابلے میں علمی طور پر دین کی مدافعت ، جدید دنیا میں مسلمانوں کو عزت و سر بلندی کا مقام دلانے کی تدبیریں ، جدید ضرورتوں کے مطابق اسلامی قانون کی تدوین ، موجودہ حالات کے لحاظ سے مسلمانوں کا ایک نیب نظام تعلیم ، جمہوریت اور سیکولرزم سے وقتی طور پر پیدا شدہ مسائل کا حل ، جدید ذہن کے لحاظ سے اس پر دعوتی لٹریچر کی تیاری ، وغیرہ ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader