غیر مسلموں میں تبلیغ
Urdu book, p. 67
By Maulana Wahiduddin Khan
کو مداومت بخشے اس کے واسطے پہلی بات اس طرز و طریق کا متعین کرنا ہے کہ جو اس کے لیے اختیار کیا جائے جس میں چند امور قابلِ لحاظ سمجھ میں آرہے ہیں ۔ یہ کہ مناظرے اور صریح کسی پر چوٹ کرنے سے محفوظ ہو ۔ دوسرے جو جو خرابیاں اپنے مذہب کی ان کے دلوں میں بیٹھی ہوتی ہیں ان کا شافی جواب لیے ہوئے ہوں اور اپنے مذہب کی اصولی چیزوں مثلاً حسن تعلیم وغیرہ کی خوبیوں پر روشنی ڈال رہی ہو ۔ باوجود اس کے مختصر ہونے کے بنا پر عام اشاعت کے قابل ہو ۔ مختصر چیز کی اشاعت آسان ہوتی ہے ۔ غرضیکہ میں ایک نااہل شخص قابلِ بیگانہ زمانہ کو کیا متوجہ کروں کہ کن کن امور کی رعایت ضروری ہے ۔ آپ خود مجھ سے اچھا سمجھ سکتے ہیں ۔ خلاصہ مطلب یہ ہے کہ اس کے مالۂ وما علیہ پر کافی نظر کر کے کوئی طریقِ اولیٰ متعین کر لیا جاوے اور پھر خدائے پاک وحدہ لاشریک لہ کی نصرتِ قطعیہ کا یقین کر کے خدائے پاک پر بھروسہ کرتے ہوئے جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ کی سرکروئی اور آخرت کا بہترین ذخیرہ سمجھتے ہوئے اس کام کو تندہی سے شروع کر دیا جائے پھر حق تعالیٰ اپنے وعدے کے موافق (حقا علینا نصر المومنین۔ ان تنصروا الله ينصرکم ۔ کتب اللہ لاغلبن انا و رسلی انادانصر رسلنا و الذین آمنوا) کشتی کو کسی کنارے لگاہی دیں گے ۔ رائے سامی سے مطلع فرمائیں ۔ والسلّام بنده محمد الياس عفی عنہ بقلم احتشام غفرلہ مولانا محمد یوسف صاحب نے ۲۱ اپریل ۱۹۵۷ء کو میدانِ عرفات میں ایک تقریر کی تھی ۔ اس تقریر کے آخر میں آپ نے فرمایا : ”پہلے اپنے قصوروں کی معافی مانگو۔ پھر آئندہ کی توفیق اور امت کے لیے زیادہ سے زیادہ قربانی دینے کو امت کی ہدایت کو اللہ سے مانگو ۔ گرد و غبار نے امت کی محبت کی چنگاریوں کو دبا رکھا ہے۔ اللہ سے مانگو کہ وہ اس غبار کو ہٹائے اور اس چنگاری کو بڑھائے ۔ کفار بھی امت دعوت ہیں۔ ان کے لیے بھی دعائیں کرنی ہیں۔ اگرچہ اپنے مسلمان بھائیوں کی بے دینی کی وجہ سے ہم ان میں اب تک دعوت کا کام نہ کر نہیں کر سکے ۔ لیکن ہم پر ان کا بھی حق ہے ۔ ان کی ہدایت کی بھی دعا کرو ۔ ساتھ ساتھ وہ کفار جو شریر ہیں اور شرارت کے ناکے ہیں ۔ جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگادی ہے ان کی تباہی کی دعائیں بھی مانگو “۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader