Urdu book · تبلیغی تحریک

ثواب کی طاقت

Urdu book, p. 94

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوئے نظر آئے۔ وہ بظاہر اجنبی تھے۔ نگراں صاحب ان کے پاس گئے اور انہیں باہر رخصت کر کے دوبارہ حضرت جی کے پاس آئے۔ حضرت جی نے پوچھا کہ وہ کون تھے۔ نگراں صاحب نے بتایا کہ وہ لوگ درگاہ نظام الدین کی زیارت کے لئے آئے۔ تھے۔ یہاں غلطی سے داخل ہو گئے۔ ”پھر آپ نے ان سے کیا کہا“ حضرت جی نے دوبارہ پوچھا۔ انھوں نے بتایا کہ میں نے کہا کہ یہ درگاہ نہیں ہے۔ آپ اور آگے جائیں۔ وہاں آپ کو درگاہ مل جائے گی۔ حضرت جی (مولانا انعام الحسن صاحب نے فوراً کہا ”میرے بھائی، آپ نے ایک موقع کھو دیا “ آپ کو اپنی دعوت ان کے سامنے پیش کرنا چاہئے تھا۔ ممکن ہے کہ وہ لوگ ہمارے دینی نظام میں شریک ہو جاتے اور پھر ان کو نفع حاصل ہوتا۔“ دعوتی ذہن اور ثواب کا مزاج سب سے اعلیٰ ذہن اور مزاج ہے۔ جن لوگوں کے اندر یہ صفت پیدا ہو جائے ان کے اندر دوسری صفتیں اپنے آپ پیدا ہو جاتی ہیں۔ دعوت کا ذہن انھیں مجبور کرتا ہے کہ وہ دوسروں کے خیر خواہ بنیں۔ اور ثواب کا ذہن یہ مزاج پیدا کرتا ہے کہ وہ انعام سے بے پروا ہو کہ اپنی ڈیوٹی انجام دیتے رہیں۔ اور یقیناً ان دونوں چیزوں سے زیادہ قیمتی کوئی چیز اس دنیا میں نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page