کار تجدید
Urdu book, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنی قوم کے اندر رہنا اس کے لئے انگاروں کے درمیان رہنے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ ان حالات میں فساد امت کے وقت سنتِ رسول کو زندہ کرنے کے لئے اٹھنا اتنی بے پناہ مشکلات کا سبب بن جاتا ہے۔ جو سو بار قتل ہونے کے برابر ہے۔ اسی بنا پر آپ نے فرمایا کہ ایسے شخص کے لئے اللہ کے یہاں سو شہیدوں کا اجر ہے۔ جس طرح خدا کی کوئی حد نہیں ، اسی طرح خدا کے دین کی راہ میں آگے بڑھنے کی بھی کوئی حد نہیں۔ خدا کا دین گویا دنیا میں رزق الہی کا ایک عظیم دسترخوان ہے۔ اس رزق کا سب سے بڑا حصہ اسی کو ملتا ہے جو اس راہ میں اپنے کو ملیامیٹ کرنے کے لیے تیار ہو۔ یہ عزت و شہرت کا اسٹیج نہیں بربادی کے مقامات ہیں۔ ان مقامات کو طے کرنا بلاشبہ سولی پر چڑھنے سے زیادہ سخت ہے۔ مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ آدمی دین کو اس کی اعلیٰ سطح پر اس وقت تک پا نہیں سکتا جب تک وہ قربانیوں کی قیمت پر دین کو حاصل کرنے کے لئے تیار نہ ہو ۔ وَمَا يُلَقَّٰهَآ إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا۟ وَمَا يُلَقَّٰهَآ إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ (حم سجدہ: 35) تجدیدی کام تجدید و احیاء کو بعض لوگوں نے اقامت نظام اور سیاسی انقلاب کے ہم معنی قرار دیا ہے۔ یہ تعبیر لغویت کی حد تک غلط ہے۔ تجدید سے مراد روح اسلامی کو از سر نو زندہ کرنا ہے نہ کہ کسی قسم کا سیاسی انقلاب برپا کرنا۔ یہاں مختصر طور پر بعض تجدیدی کاموں کی تفصیل درج کی جاتی ہے جو کہ موجودہ زمانہ کے لحاظ سے مطلوب ہیں۔ 1- موجودہ زمانہ میں تلفظ کلمہ کو ایمان سمجھا جانے لگا ہے۔ اب ضرورت ہے کہ اس حقیقت کو لوگوں کے سامنے اچھی طرح واضح کیا جائے کہ معرفت کلمہ کا نام ایمان ہے نہ کہ مجرد تلفظ کلمہ کا۔ 2- موجودہ زمانہ میں قرآن کو کتاب تلاوت بنا دیا گیا ہے اس معاملہ میں تجدیدی کام یہ کہ قرآن کو دوبارہ لوگوں کے لئے نصیحت اور تدبر کی کتاب بنانے کی کوشش کی جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader