کار تجدید
Urdu book, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ دینی مدارس میں حدیث کو عملاً فقہ کے تابع کر دیا گیا ہے۔ اب ضرورت ہے کہ حدیث کو خود ایک مستقل علم کی حیثیت سے پڑھانے کا رواج ڈالا جائے۔ موجودہ زمانہ میں عبادت کو مسائل پر مبنی قرار دے دیا گیا ہے۔ اب ضرورت ہے کہ دوبارہ صحیح تصور عبادت کو نمایاں کیا جائے جس میں عبادت کو خشوع پر مبنی قرار دیا گیا ہو۔ موجودہ زمانہ میں کچھ ایسی تحریکیں اٹھی ہیں جنھوں نے اسلام کی اس طرح تعبیر کی گویا اسلام کا نشانہ اجتماعی نظام ہے۔ اس تعبیری غلطی کو واضح کرتے ہوئے یہ بتانا کہ اسلام کا اصل نشانہ فرد کے اندر تبدیلی لانا ہے نہ کہ اجتماعی نظام بدلنے کے نام پر سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کرنا۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان اپنی داعیانہ ذمہ داری کو بھول چکے ہیں۔ حتیٰ کہ انھوں نے دوسرے دوسرے کاموں کو دعوت کا عنوان دے رکھا ہے۔ اس صورت حال کو ختم کرنا اور دعوت و شہادت کے کام کو اس کی اصل روح کے ساتھ زندہ کرنا۔ رسول کے معاملہ میں مسلمانوں کو اتباع رسول کا حکم دیا گیا ہے۔ مگر اس کو انھوں نے عشق رسول کے ہم معنی بنا دیا ہے۔ اس مبتدعانہ عقیدہ رسالت کو ختم کرنا اور صحیح قرآنی عقیدہ کو زندہ کرنا۔ موجودہ مسلمانوں میں بہت بڑے پیمانہ پر خدا پرستی کے نام پر اکابر پرستی رائج ہو گئی ہے۔ اس گمراہی کو ختم کر کے مسلمانوں کو سچی خدا پرستی پر قائم کرنا۔ سیرت اور اسلامی تاریخ کی موجودہ کتابوں میں جنگوں کو سب سے زیادہ نمایاں کیا گیا ہے ۔ اس کے بجائے سیرت اور تاریخ پر ایسی کتابیں تیار کرنا جن میں دعوت کو نمایاں حیثیت سے بیان کیا گیا ہو۔ موجودہ زمانہ میں ایک روایتی مذہبی ڈھانچہ بن گیا ہے۔ مسلمان اسی کو دین سمجھتے ہیں ۔ مسلمانوں کو اس خود ساختہ ڈھانچہ سے نکالنا اور ان کو خدا اور رسول والے اصل دین سے وابستہ کرنا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader