Urdu book · تجدید دین

کار تجدید

Urdu book, p. 8

By Maulana Wahiduddin Khan

مخالفتوں اور مشکلات میں مبتلا کر دیتی ہے۔ کہ اس کے مقابلہ میں ایک دن میدان جنگ میں لڑ کر مر جانا کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ ان مخالفتوں میں سب سے زیادہ شدید مخالفت ان قائدین کی طرف سے سامنے آتی ہے، جو دین کے نام پر دنیوی فائدے حاصل کیے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کی قیادت کا راز صحیح دین کا علم بردار بننا نہیں ہوتا۔ وہ یہ کرتے ہیں کہ بگاڑ کے زمانہ میں پائی جانے والی دینی مشکلوں میں اپنی جگہ بنا لیتے ہیں۔ کوئی کسی ادارہ کی گدی پر بیٹھ جاتا ہے، کوئی دینی جشنوں اور تقریبو ں میں خطابت کا جو ہر دکھا کر مرجع خلائق بن جاتا ہے۔ کوئی دین کو رائج الوقت پیمانوں میں ڈھال کر لوگوں کے درمیان مقبولیت حاصل کر لیتا ہے۔ کوئی گزری ہوئی مقدس شخصیتوں کا سہارا لے کر ان کے نام پر اپنا کاروبار چلا رہا ہوتا ہے۔ کوئی دین کے ایسے سستے نسخوں کی کامیاب تجارت کر رہا ہوتا ہے جس میں لوگوں کو اپنی زندگی کا ڈھانچہ بدلے بغیر جنت کی بشارتیں مل رہی ہوں۔ صحیح دینی دعوت کا اٹھنا اس قسم کے تمام لوگوں کے لئے چیلنج بن جاتا ہے۔ اس کے فروغ میں ان کو اپنا عزّت و اقتدار مٹتا ہوا نظر آتا ہے۔ مزید یہ کہ ایک عرصہ تک عزت و استقبال کے جلو میں رہنے کے نتیجہ میں ان کے اندر ایک قسم کا دینی کبر پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی ذات کو اور دین کو ہم معنی سمجھ لیتے ہیں۔ فطری طور پر وہ ایک ایسے شخص کا اعتراف کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے جو ان کی امتیازی حیثیت کو بے اعتبار ثابت کرے۔ اعاظم و اکابر کی یہ مخالفت سچے دین کے علم بردار کے لئے انتہائی شدید مسائل پیدا کر دیتی ہے۔ وقت کے دینی حلقوں کی طرف سے اس کا بائیکاٹ کیا جاتا ہے۔ اس کی بے دینی کے فتوے دیئے جاتے ہیں۔ اس کی معاشیات کو برباد کیا جاتا ہے۔ اس کو ماحول میں بے جگہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے معاشیات کو برباد کیا جاتا ہے۔ اس کو ماحول میں بے جگہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے خلاف ہر قسم کی معاندانہ کاروائی کو جائز سمجھ لیا جاتا ہے۔ اکابر قوم کی مخالفت سے اصاغر قوم کو مزید جرات ہوتی ہے۔ بالآخر یہاں تک نوبت پہونچتی ہے کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page