اتباع صراط، اتباع سُبل
Urdu book, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
اتباع صراط، اتباع سُبل قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ الدین کی اقامت کرو، اس میں تفرقہ کا طریقہ اختیار نہ کرو (الشورٰی: 13) دوسری جگہ یہی بات ان لفظوں میں کہی گئی ہے: وَأَنَّ هٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيماً فَاتَّبِعُوهُ ٭ اور اللہ نے حکم دیا ہے کہ یہ میری سیدھی شاہراہ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ ہے، پس اسی پر چلو۔ اور دوسرے راستوں پر نہ سَبِيلِهِ ۭ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ چلو کہ وہ تم کو اللہ کے راستہ سے جدا کر دیں گے۔ تَتَّقُونَ (الانعام: 153) یہ اللہ نے تم کو حکم دیا ہے تا کہ تم بچتے رہو۔ دین کے معاملہ کو یہاں راستہ کی مثال سے واضح کیا گیا ہے۔ سفر کرنے کے لئے ایک سیدھی اور چوڑی سڑک ہوتی ہے۔ دوسری طرف اس سڑک کے ارد گرد پگڈنڈیاں ہوتی ہیں۔ جو آدمی سیدھی اور چوڑی سڑک پر اپنا سفر طے کرے وہ بھٹکے بغیر اپنی منزل پر پہنچ جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو آدمی اطراف کی پگڈنڈی پر چلے، اس کے متعلق سخت اندیشہ ہے کہ وہ ادھر اُدھر بھٹک جائے گا۔ وہ اپنی مطلوبہ منزل پر نہیں پہنچے گا۔ اسی طرح دین میں کچھ بنیادی اصول ہیں ۔ وہ متفق علیہ ہیں۔ ان میں کوئی شبہ یا اختلاف نہیں۔ اسی کے ساتھ کچھ جزئی اور فروعی امور ہیں۔ یہ دوسرے قسم کے امور قیاس اور استنباط کے ذریعہ نکالے جاتے ہیں، اور ان میں ہمیشہ ایک سے زیادہ رائیں ہوتی ہیں۔ اختلاف ہمیشہ انھیں دوسرے قسم کے امور میں پیدا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ اہل اسلام سب سے زیادہ دھیان اساسی امور پر دیں جن کو ’الدین‘

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader