اتباع صراط، اتباع سُبل
Urdu book, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
کہا گیا ہے۔ اور جو گویا دین کی شاہراہ ہیں۔ وہ جزئی اور فروعی امور کو ہرگز اپنی اصل توجہ کا مرکز نہ بنائیں۔ تمام زور اور تاکید اتفاقی باتوں پر نہ ہو نہ کہ اختلافی باتوں پر۔ اول الذکر کا نام اتباع صراط ہے، اور ثانی الذکر کا نام اتباع سبل۔ اتباعِ سبل عین وہی چیز ہے جس کو انتقالِ تاکید (shift of emphasis) کہا جاتا ہے۔ یعنی جس چیز پر حقیقتاً زور دینا چاہئے، اس کو چھوڑ کر کسی اور چیز پر زور دینے لگنا۔ جس چیز کو اصلاً قابلِ توجہ بنانا چاہئے، اس سے ہٹ کر کسی اور چیز کو قابلِ توجہ بنا لینا۔۔ مثلاً ایمان میں اصل اہمیت کی چیز معرفتِ رب ہے، مگر معرفت کو چھوڑ کر کلمہ کے صحتِ تلفظ پر زور دینے لگنا۔ ذکر میں یادِ خداوندی کے بجائے تکرارِ الفاظ کی بحث کرنا۔ نماز میں خشوع کے بجائے ظاہری آداب پر ساری گفتگو مرتکز کر دینا۔ دینی اعمال کو کیفیت کے بجائے کمیت کے اعتبار سے جانچنا۔ عقیدۂ خدا کے معاملہ میں تعلق باللہ کے بجائے کلامی موشکافیاں پیدا کرنا۔ رسالت کے باب میں اتباعِ رسولؐ کے بجائے عشقِ رسولؐ کی دھوم مچانا۔ حقیقی برائی کی اصلاح میں محنت کرنے کے بجائے کچھ شخصیتوں کو برا قرار دے کر ان کے خلاف جھنڈا اٹھانا، وغیرہ۔ یہ اور اس طرح کی دوسری تمام چیزیں نا مطلوب انتقالِ تاکید (Shift of emphasis) کے حکم میں داخل ہیں۔ پچھلی امتیں اسی قسم کی غیر متعلق بحثوں اور سرگرمیوں میں مبتلا ہو کر صراطِ مستقیم سے بھٹک گئیں ۔ یہی اندیشہ دوبارہ امت مسلمہ کے لئے بھی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ کو قرآن وحدیث میں بار بار آگاہ کیا گیا ہے کہ وہ اس گمراہی میں پڑنے سے بچے ۔ وہ دین کی اصل شاہراہ کو چھوڑ کر اس کے متفرق اور ضمنی پہلوؤں میں نہ کھو جائے ۔ ورنہ وہ بھی اسی طرح گمراہی کا شکار ہو جائے گی جس طرح پچھلی امتیں گمراہی کا شکار ہوئیں اور آخر کار خدا کی رحمت سے دور ہوگئیں۔ انتقالِ تاکید سے کیا خرابی پیدا ہوتی ہے، اس کو ایک عام مثال کے ذریعہ سمجھا جا سکتا ہے۔ دو آدمی مل کر ایک دکان کھولیں ۔ اب ایک شکل یہ ہے کہ وہ اپنی ساری توجہ دکان کے تجارتی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader