اتباع صراط، اتباع سُبل
Urdu book, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
پہلوؤں پر لگائیں۔ دکان کو وقت پر کھولنا، سامان کی صحیح انداز سے خریداری، گاہکوں کو مطمئن کرنے کی کوششیں، متعلق شعبوں سے روابط قائم کرنا، حساب کتاب کو درست کرنا، وغیرہ۔ ان امور پر توجہ دینا دکان داری کے اساسی پہلوؤں پر توجہ دینا ہے۔ اور جو لوگ ان پہلوؤں پر توجہ دیں وہ ضرور اپنی تجارت میں کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ دونوں آدمی ان باتوں پر لامتناہی بحثیں کریں کہ دکان کی دیواروں پر پرنٹنگ کس رنگ کی ہو، سائن بورڈ کتنا بڑا ہو، کون سا فرنیچر وہاں رکھا جائے۔ فرش کی جگہ قالین ہو یا سنگ مرمرا۔ یہ تمام جزئی اور فروعی باتیں ہیں۔ جو لوگ اس طرح کی باتوں پر بحث و تکرار کرنے لگیں وہ کبھی کامیاب تاجر نہیں بن سکتے۔ تجارت اور دکاندار ی کے معاملہ میں کوئی ایسی نادانی نہیں کرے گا۔ مگر دین کے معاملہ میں آج تمام لوگ اسی قسم کی نادانی میں مبتلا ہیں۔ وہ اساسی امور کو چھوڑ کر جزئی امور کی دھوم مچا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بے شمار ہنگاموں کے باوجود موجودہ زمانہ میں اب تک دین کا احیاء نہ ہوسکا۔ موجودہ زمانہ میں مسلمان عام طور پر اس حکم قرآنی سے دور ہوگئے ہیں۔ موجودہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ان کے دینی مدرسوں میں جب نماز کا باب پڑھایا جاتا ہے تو نماز کے خشوع وخضوع پر کوئی خاص کلام نہیں کیا جاتا، البتہ نماز کے فقہی مسائل پر پورے تعلیمی سال کے دوران بحثیں جاری رہتی ہیں۔ مسلمانوں کے اجتماعات ہوتے ہیں تو ان میں مسلمانوں کی داخلی کمزوریوں پر انہیں متنبہ نہیں کیا جاتا۔ البتہ دوسری قوموں کے ظلم اور سازش کا انکشاف کرکے ان پر دھواں دھار تقریریں ہوتی ہیں۔ مسلم ملکوں میں اصلاحِ فردا اور اصلاحِ معاشرہ کی کوئی حقیقی مہم جاری نہیں کی جاتی، البتہ انقلاب حکومت کے نام پر ہر چھوٹا بڑا لیڈر سیاسی مجاہد بنا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ تمام صورتیں راستہ سے بھٹکنے کی صورتیں ہیں۔ یہ اتباع صراط کو چھوڑ کر اتباع سُبل کے طریقہ پر دوڑنا ہے۔ اور جو لوگ ایسا کریں، ان کے لئے خدا کی کتاب کا فیصلہ ہے کہ وہ ہمیشہ غیر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader